کتب حدیثمجموعه ضعيف احاديثابوابباب: جنازے کے ساتھ چلنے والوں کی مغفرت
حدیث نمبر: 726
اول ما يجازى به العبد بعد موته أن يغفر لجميع من اتبع جنازته
حافظ عمران ایوب لاہوری
”(مومن) بندے کی وفات کے بعد سب سے پہلے جو اسے جزا دی جاتی ہے وہ یہ یے کہ اس کے جنازے کے پیچھے چلنے والے تمام افراد کو بخش دیا جاتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 726
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
علامہ طاہر پٹنی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ [تذكرة الموضوعات ص: 217]
امام ہیثمی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس میں مروان بن سالم شامی راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد 4134]
امام عجلونی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس کی تمام اسناد ضعیف ہیں۔ [كشف الخفاء 263/1]
امام ابن جوزی رحمہ الله نے اسے ”موضوعات“ میں ذکر کیا ہے۔ [الموضوعات 266/3]
شیخ البانی رحمہ الله نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [ضعيف الترغيب 2057]
حدیث نمبر: 727
كرامة المؤمن على الله أن يغفر لمشيعه
حافظ عمران ایوب لاہوری
”اللہ کے ذمہ مومن کی یہ عزت ہے کہ وہ اس کے جنازے کے ساتھ چلنے والوں کو بخش دے ۔“
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 727
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
امام سیوطی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں ضعف ہے۔ [اللآلي المصنوعة 357/2]
امام ابن جوزی رحمہ الله نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ [الموضوعات 226/3]
علامہ ابن عراق رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس میں عبدالرحمٰن بن قیس اور اسماعیل بن عبداللہ راوی «متروك» ہے۔ [تنزية الشريعة 454/2]
ابن طاہر مقدسی رحمہ الله نے بھی عبدالرحمٰن راوی کو «متروك» کہا ہے۔ [ذخيرة الحفاظ 4214]