کتب حدیثمجموعه ضعيف احاديثابوابباب: اعمال کا اقرباء پر پیش ہونا
حدیث نمبر: 704
إن أعمالكم تعرض على أقاربكم وعشائركم من الأموات فإن كان خيرا استبشروا وإن كان غير ذالك اللهم لا تمتهم حتى تهديهم كما هديتنا
حافظ عمران ایوب لاہوری
” تمہارے اعمال تمہارے فوت شدہ قریبی رشتہ داروں پر پیش کیے جاتے ہیں ، اگر اعمال اچھے ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر اچھے نہ ہوں تو وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! تو انہیں اس وقت تک فوت نہ کر جب تک انہیں بھی اس طرح ہدایت نہ دے جیسے ہمیں ہدایت دی ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 704
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
حافظ عراقی رحمہ الله نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ [تخريج الأحياء 4425]
امام ہیثمی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ اس میں ایک راوی «مجهول» ہے۔ [مجمع الزوائد 3933]
شیخ البانی رحمہ الله نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [السلسلة الضعيفة 863]
شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا ہے کہ اس کی سند سفیان اور انس کا درمیانی واسطہ مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [مسند احمد محقق 12683]
حدیث نمبر: 705
لا تفضحوا أمواتكم بسيئات أعمالكم فإنها تعرض على أوليائكم من أهل القبور
حافظ عمران ایوب لاہوری
” تم اپنے برے اعمال کی وجہ سے اپنے فوت شدگان کو رسوا نہ کرو کیونکہ تمہارے اعمال تمہارے ان دوستوں پر پیش کیے جاتے ہیں جو قبروں میں ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 705
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
امام شوکانی رحمہ اللہ ، امام سخاوی رحمہ اللہ ، حافظ عراقی رحمہ اللہ ، امام عجلونی رحمہ اللہ اور شیخ حوت رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 269] ، [المقاصد الحسنة ص: 721] ، [تخريج الأحياء 4425] ، [كشف الخفاء 358/2] ، [أسني المطالب ص: 319]