کتب حدیثمجموعه ضعيف احاديثابوابباب: مریض کی دعا کی قبولیت
حدیث نمبر: 679
خمس دعوات يستجاب لهن : دعوة المظلوم حتى ينتصر ودعوة الحاج حتى يصدر و دعوة المجاهد حتى يقعد ”ودعوة المريض حتى يبرأ“ ودعوة الأخ لأخيه بظهر الغيب ثم قال واسرع هذه الدعوات إجابة دعوة الأخ بظهر الغيب
حافظ عمران ایوب لاہوری
” پانچ افراد کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں ، مظلوم کی دعا حتیٰ کہ وہ بدلہ لے لے ۔ حج کرنے والے کی دعا حتٰی کہ وہ (گھر کی طرف) واپس لوٹ آئے ۔ مجاہد کی دعا حتٰی کہ (وہ اپنے اہل و عیال میں آ کر) بیٹھ جائے ۔ مریض کی دعا حتٰی کہ وہ تندرست ہو جائے اور بھائی کی اپنے بھائی کے لئے غائبانہ طور پر کی جانے والی دعا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان تمام دعاؤں میں سے سب سے جلد قبول ہونے والی دعا ، بھائی کی اپنے بھائی کے لئے غائبانہ طور پر کی جانے والی دعا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 679
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث { «ضعيف» } :
[هداية الرواة 418/2] ، [الضعيفة 1344] اس کی سند میں عبدالرحیم بن زید العمی راوی ہے جو «مهتم بالكذب» ہے۔ [هداية الرواة 418/2]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ «متروك» ہے۔
امام ابن معین رحمہ اللہ نے اسے کذاب کہا ہے اور ایک دوسری جگہ پر کہا ہے کہ یہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔
امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی حدیث کو ترک کر دیاجائے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اہل علم نے اسے چھوڑ دیا ہے ۔
امام ابوزرعہ رحمہ الله نے اسے «واهي الحديث» یعنی ضعیف کہا ہے۔
امام ابوداود رحمہ الله نے بھی اسے ضعیف کہا ہے ۔
امام جوز جانی رحمہ الله نے اسے غیر ثقہ کہا ہے۔
امام ذہبی رحمہ الله نے کہا ہے کہ اہل علم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ [تقريب التهذيب 4545] ، [الجرح والتعديل 339/5] ، [التاريخ الكبير 104/3] ، [الجرح والتعديل 8937] ، [تهذيب الكمال 3406] ، [الضعفاء للعقيلي 130] ، [علل ابن أبي حاتم 735] ، [الكامل لابن عدي 298/2] ، [ميزان الاعتدال 5030 ، 605/1]