من صام ثلاثة أيام من رجب كتب الله له صيام شهر . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جس نے رجب کے تین روزے رکھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے مہینے بھر کے روزے لکھ لیتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیثمجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 633
درجۂ حدیثمحدثین:موضوع
تخریج حدیث{ «موضوع» } : امام ابن جوزی رحمہ الله نے اسے موضوعات میں ذکر فرمایا ہے ۔ [الموضوعات 2/ 206] امام شوکانی رحمہ الله اور امام سیوطی رحمہ الله نے نقل فرمایا ہے کہ اس میں ابان راوی متروک جبکہ ابن علوان راوی حدیثیں گھرنے والاہے ۔ [ الفوائد المجموعةص : 100] ، [اللآلي المصنوعة97/2] شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ بطورِ خاص رجب کے روزے رکھنے کے متعلق تمام احادیث ضعیف بلکہ موضوع ہیں ، اہل علم ان میں سے کسی پر بھی اعتماد نہیں کرتے ۔ امام ابن قیم رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ رجب کے روزے اور اس کی کچھ راتوں میں قیام کے متعلق جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی ہیں وہ تمام جھوٹ اور بہتان ہیں ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ایسی کوئی بھی صحیح اور قابل حجت حدیث وارد نہیں جو ماہ رجب میں مطلقاً روزے رکھنے یا رجب کے کسی معین دن کا روزہ رکھنے یا اس کی کسی رات کے قیام کی فضیلت پر دلالت کرتی ہو ۔ [ مجموع الفتاويٰ 290/20] ، [المنار المنبف ص : 96] ، [تبين العجب ص : 11]