تخریج حدیث{ «ضعيف» } : امام صغانی ، امام شوکانی ، علامہ طاہر پٹنی اور ابو الفضل مقدسی رحمها اللہ نے اسے موضوعات کے ضمن میں ذکر کیا ہے ۔ [موضوعات : 72] ، [الفوائد المجموعة ص:90] ، [ تذكرة الموضوعات ص: 70 ] ، [تذكرة الموضوعات للمقدسي ص: 51 ] حافظ عراقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے ۔ [تخريج الاحياء : 2753 ] ابن طاہر مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں حسین بن عبداللہ راوی متروک الحدیث ہے ۔ [ذخيرة الحفاظ : 1429/3 ] شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے ۔ [السلسلة الضعيفة : 253 ]