تخریج حدیث{ «موضوع» } : ملا علی قاری رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں۔ [الاسرار المرفوعة ص: 359] امام شوکانی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں دو راوی متروک ہیں۔ [الفوائد المجموعة ص: 65] امام ابن معین رحمہ الله نے اس روایت کو کذاب و افترا کہا ہے۔ [كما فى اللآلي المصنوعة 63/2] شخ البانی رحمہ الله نے اس روایت کو موضوع کہا ہے۔ [الضعيفة 104]