تخریج حدیث{ «لا أصل له» } : امام سبکی رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق اس کی کوئی اصل نہیں۔ [أحاديث الاحياء التي لا أصل لها، ص: 50] شیخ حوت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں مقاتل راوی ضعیف ہے۔ [أسني المطالب، ص: 121] امام شوکانی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔ [الفوائد المجموعة، ص: 437] امام صغانی رحمہ الله نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ [موضوعات، ص: 50] حافظ عراقی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ [تخريج الاحياء 261/8] ، مزید دیکھئے: [تذكرة الموضوعات، ص: 114] ، [كشف الخفاء 334/1] ، [ضعيف الجامع 2659]