تخریج حدیث{ «ضعيف» } : امام دارقطنی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ یہ روایت مرسل ہے، اور مزید برآں اس میں محمد بن سالم اور علی بن عاصم راوی بھی ضعیف ہے۔ [دارقطني 330/1] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث کی تمام اسناد ضعیف و معلول ہیں، ان میں سے کوئی بھی صحیح و ثابت نہیں۔ [تلخيص الحبير 571/1]