تخریج حدیث{ «ضعيف» } : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [فتح الباري 549/1] امام بزار رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔ [أسني المطالب ص: 119] امام سخاوی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ [المقاصد الحسنة ص: 285] امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں۔ [العلل المتناهية 403/1] ، مزید دیکھئے: [مجمع الزوائد 2049] ، [الدراية 287/1] ، [ضعيف ابن ماجه 164]