” ہر دو اذانوں (یعنی اذان و اقامت) کے درمیان (نفل) نماز ہے سوائے مغرب کے ۔ “
حوالہ حدیثمجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 383
درجۂ حدیثمحدثین:موضوع
تخریج حدیث{ «موضوع» } : علامہ طاہر پٹنی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ اس میں حیان بن عبداللہ راوی کذاب ہے۔ [تذكرة الموضوعات ص: 36] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ «بين كل أذانين صلاة» کے الفاظ تو ثابت ہیں، البتہ بعد والے الفاظ ضعیف روایت میں ہیں۔ [تلخيص 100/2] شیخ البانی رحمہ الله نے ان لفظوں میں اس روایت کو منکر کہا ہے، جبکہ «إلا المغرب» کے علاوہ باقی حدیث کو صحیح کہا ہے ۔ [الضعيفة 2139] ، [الصحيحة 231/1]