” (ایک طویل روایت میں ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو (نماز میں) ہنسے ہیں وہ وضو اور نماز دہرائیں۔ “
حوالہ حدیثمجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 349
درجۂ حدیثمحدثین:ضعيف
تخریج حدیث{ «ضعيف» } : [مجمع الزوائد 246/1] اس کی سند منقطع ہے، جیسا کہ شیخ محمد صجی حسن حلاق نے بیان کیا ہے کہ ابوالعالیہ رحمہ الله کا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے، لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔ [التعليق على السيل الحرار 264/1] ، مزید برآں اس کی سند میں محمد بن عبدالملک بن مروان بن حکم بن ابوجعفر واسطی دقیقی راوی مختلف فیہ ہے۔ [ميزان الاعتدال 232/3] امام شوکانی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ اس معنی کی دیگر تمام روایات بھی ضعیف ہیں۔ [السيل الحرار 100/1-101]