تخریج حدیث{ «لا أصل له» } : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے ضعیف جبکہ حافظ عراقی رحمہ اللہ نے اسے بے اصل کہا ہے۔ [الدرر المنتثرة فى الأحاديث المشتهرة ص: 21] شیخ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: لوگوں میں مشہور اس حدیث کی کوئی اصل نہیں، جیسا کہ امام منذری رحمہ اللہ نے بھی یہ وضاحت فرمائی ہے۔ [ضعيف أبوداؤد، الأم ص: 28]