تخریج حدیث{ «ضعيف» } : امام سخاوی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ [المقاصد الحسنة ص: 535] امام عجلونی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ یہ کوئی حدیث نہیں، البتہ اس کا معنیٰ صحیح ہے۔ [كشف الخفاء 88/2] امام ابن جوزی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ [العلل المتناهية 134/1] شیخ البانی رحمہ الله نے اسے موضوع کہا ہے۔ [ضعيف الجامع 3987] ، [ضعيف ابن ماجه 41] ، [تمام المنة ص: 115]