کتب حدیثمجموعه ضعيف احاديثابوابباب: قبر پکارتی ہے میں تنہائی کا گھر ہوں
حدیث نمبر: 247
يقول القبر للميت حين يوضع فيه ويحك يا ابن آدم ما غرك بى الم تعلم ابى بيت الظلمة وبيت الفتنة و بيت الوحدة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جب میت کو قبر میں اتارا جاتا ہے تو قبر اسے پکار کر کہتی ہے کہ اے ابن آدم ! تو ہلاک ہو تمہیں میرے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا ، کیا تجھے علم نہیں تھا کہ میں اندھیرے ، فتنے اور تنہائی کا گھر ہوں ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 247
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث { «ضعيف» } :
امام اصفہانی رحمہ اللہ نے اسے نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے۔ [حلية الأولياء 90/6]
امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں موجود ابن ابی مریم راوی ضعیف الحفظ ہے۔ [كتاب العلو ص: 29]
حافظ عراقی رحمہ الله نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ [تخريج الاحياء 252/5]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ [اتحاف الخيرة المهرة 2016]