تخریج حدیث{ «ضعيف» } : امام عجلونی رحمہ الله نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ [كشف الخفاء 460/1] شیخ حوت رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [أسنی المطالب 756] امام ہیثمی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں کثیر بن عبداللہ راوی ہے جسے جمہور نے ضعیف کہا ہے۔ [مجمع الزوائد 189/6]