حدیث نمبر: 201
لما اقترف آدم الخطيئة قال يا رب ! اسالك بحق محمد صلى الله عليه وسلم لما غفرت لي فقال الله عزوجل يا آدم و كيف عرفت محمدا صلى الله عليه وسلم ولم اخلقه؟ قال يا رب لما خلقني بيدك ونفخت فى من روحك رفعت راسي فرايت على قوائم العرش مكتوبا : لا اله الا الله محمد رسول الله فعلمت انك لم تضف الي اسمك الا احب الخلق اليك ، فقال الله صدقت يا آدم ! انه لا حب الخلق الي ادعني فقد غفرت لك ولو لا محمد صلى الله عليه وسلم ما خلقتك
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جب آدم علیہ السلام نے گناہ کا ارتکا ب کیا تو کہا: اے پروردگار ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں مجھے معاف فرما دے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیسے جانا ، میں نے تو اسے ابھی پیدا بھی نہیں کیا ؟ آدم علیہ السلام نے کہا کہ پروردگار ! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے بنایا اور میرے اندر اپنی روح پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ عرش کے پایوں پر لکھا ہوا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ مجھے معلوم ہو گیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ جس کا اضافہ کیا ہے وہ مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم ! تو نے سچ کہا ہے ۔ یقیناًََ مخلوق میں مجھے وہ سب سے زیادہ محبوب ہے لہٰذا تو مجھے اس کا واسطہ دے کر پکار ، بلاشبہ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے اور اگر محمد نہ ہوتا تو میں تجھے پیدا ہی نہ کرتا ۔ “