حدیث نمبر: 70
يٰأيها الناس قد أظلكم شهر عظيم ، شهر فيه ليلة خير من ألف شهر ، جعل الله صيامه فريضة وقيام ليلة تطوعا ، من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدي فريضة فيما سواه ومن أدي فيه فريضة كان كمن أدي سبعين فريضة فيما سواه ، وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة ، وشهر المواساة ، وشهر يزاد فيه فى رزق المؤمن ومن فطر فيه صائما كان مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار وكان له مثل أجره من غير أن ينقض من أجره شئي ، قلنا يا رسول الله ! ليس كلنا نجد ما نفطر به الصائم ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يعطي الله هذا الثواب من فطر صائما على مذقة لبن أو تمرة أو شربة من ماء ، ومن أشبع صائما سقاه الله من حوضي شربة لا يظمأ حتي يدخل الجنة ، وهو شهر أوله رحمة ، و أوسطه مغفرة و آخره عتق من النار ومن خفف عن مملوكه فيه غفرالله له و اعتقه من النار
حافظ عمران ایوب لاہوری
”اے لوگو! بے شک تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہے، ایسا مہینہ جس میں ایک ایسی رات ہےجو ہزار مہینوں (کی عبادت) سے بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض کیا ہے اور اس کے قیام اللیل (یعنی نماز تراویح) کو نفلی طور پر مقرر فرمایا ہے۔ جس نے اس مہینے میں کوئی بھی خیر کا کام کیا وہ اس شخص کی مانند ہو گا جس نے اس مہینے کے سوا (کسی اور مہینے میں) کوئی فرض ادا کیا اور جس نے اس میں کوئی فرض ادا کیا وہ اس شخص کی مانند ہو گا جس نے اس مہینے کے سوا ستر فرض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہی ہے۔ یہ ہمدردی کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جس نے اس میں کسی ایک روزہ دار کا روزہ افطار کرایا اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اس کی گردن کو جہنم سے آزادی مل جائے گی اور اس کو بھی روزہ دار (جس کا روزہ کھلوایا ہے) کے برابر ثواب حاصل ہو گا مگر روزہ دار کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہم سب اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ روزہ دار کا روزہ افطار کروائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ ثواب ایسے شخص کو عطا فرما دے گا جس نے دودھ کے ایک گھونٹ یا کھجور یا پانی کے ایک گھونٹ کے ساتھ ہی روزہ دار کا روزہ افطار کرایا اور جس نے روزہ دار کو خوب سیر کر کے کھانا کھلایا اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلائے گا جس سے جنت میں داخل ہونے تک وہ پیاس محسوس نہیں کرے گا۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء میں رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے، جس کے وسط میں (لوگوں کے گناہوں کی) مغفرت ہوتی ہے اور جس کے آخر میں جہنم سے آزادی ملتی ہے، اور جس نے اس مہینے میں اپنے ماتحت (غلام یا لونڈی) پر تخفیف کی اللہ تعالی اسے بخش دیں گے، اور اسے جہنم کی آگ سے آزاد کر دیں گے۔“