حدیث نمبر: 66
إذا مات الرجل منكم فدفنتموه فليقم أحدكم عند رأسه ، فليقل : يا فلان بن فلانة ! فإنه سيسمع ، فليقل : يا فلان بن فلانة ! فإنه سيستوي قاعدا ، فليقل : يا فلان بن فلانة ! فإنه سيقول أرشدني أرشدني ، رحمك الله ، فليقل : أذكر ما خرجت عليه من دار الدنيا شهادة أن لا إله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده و رسوله وان الساعة آتية لا ريب فيها وان الله يبعث من فى القبور . . . !
حافظ عمران ایوب لاہوری
”جب تم میں سے کوئی آدمی فوت ہو اور تم اسے دفن کر دو، تم میں سے کوئی اس کے سر کے قریب کھڑا ہو اور کہے: اے فلان عورت کے بیٹے فلاں! تو یقیناً وہ سنے گا، اور پھر کہے: اے فلاں عورت کے بیٹے فلاں! تو بلاشبہ وہ برابر ہو کر بیٹھ جائے گا، پھر وہ کہے: اے فلاں عورت کے بیٹے فلاں! تو بےشک وہ کہے گا: مجھے ہدایت کرو مجھے ہدایت کرو، اللہ تم پر رحم کرے۔ پھر وہ کہے: اس چیز کو یاد کرو کہ جس پر تم اس دنیوی گھر سے رخصت ہوئے ہو (یعنی) یہ شہادت کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور بےشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ اہل قبور کو (ان کی قبروں سے ضرور) اٹھائیں گے۔“