حدیث نمبر: 32
تعاد الصلاة من قدر الدرهم من الدم
حافظ عمران ایوب لاہوری
”ایک درہم کے برابر خون کی وجہ سے نماز دہرائی جائے گی (یعنی اگر کسی کے کپڑوں کو اتنا خون لگا ہو اور وہ نماز ادا کر لے تو اس پر لازم ہے کہ دوبارہ نماز ادا کرے، اور اگر اس سے کم خون لگا ہو تو پھر اعادہ لازم نہیں)۔“