حدیث نمبر: 15887
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَعَلَيَّ أَطْمَارُ، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مَالٌ؟» قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ: «مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟» قُلْتُ : مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الشَّاءِ وَالْإِبِلِ. قَالَ: «فَلْتُرَ نِعَمُ اللَّهِ وَكَرَامَتُهُ عَلَيْكَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ. [انظر : ١٥٨٨٨ ، ۱٥٨٨٩ ، ۱۵۸۹۱ ، ١۵۸۹۲]
مولانا ظفر اقبال
سیدنا مالک بن نضلہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال دیکھا تو پوچھا : کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا : جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا : اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلابکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15887
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15888
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِيفُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ هَلْ لَكَ مَالٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَمَا مَالُكَ فَقَالَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ مِنْ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالرَّقِيقِ وَالْغَنَمِ قَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ فَقَالَ هَلْ تُنْتِجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى فَتَقْطَعُهَا أَوْ تَقْطَعُهَا وَتَقُولُ هَذِهِ بُحُرٌ وَتَشُقُّ جُلُودَهَا وَتَقُولُ هَذِهِ صُرُمٌ فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ كُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ حِلٌّ وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ وَرُبَّمَا قَالَهَا وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهَا وَرُبَّمَا قَالَ سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يَقْرِنِي وَلَمْ يُكْرِمْنِي ثُمَّ نَزَلَ بِي أَقْرِيهِ أَوْ أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ قَالَ بَلْ اقْرِهِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15888
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْإِبِلِ ، وَمِنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ , قَالَ : " فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا مالک سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال دیکھا تو پوچھا : کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا : جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا : اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ تمہاری قوم میں کسی کے پاس یہاں اونٹ پیدا ہوتا ہے اس کے کان صحیح سالم ہوتے ہیں اور تم استرا پکڑ کر اس کے کان کاٹ دیتے ہواور کہتے ہو کہ یہ بحر ہے کبھی ان کی کھال چھیل ڈالتے ہواور کہتے ہو کہ یہ صرم ہے اور کبھی انہیں اپنے اہل خانہ پر حرام قرار دیتے ہوانہوں نے عرض کیا : ایساہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے تم کو جو کچھ عطا فرما رکھا ہے وہ سب حلال ہے اللہ کا بازو زیادہ طاقت ور ہے اور اللہ کا استرا زیادہ تیز ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ اگر میں کسی شخص کے ہاں مہمان جاؤ اور وہ میرا آ کرام کر ے اور نہ ہی مہمان نوازی پھر وہی شخص میرے یہاں مہمان بن کر آئے تو میں بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کر و جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا میں اس کی مہمان نوازی کر وں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی مہمان نوازی کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15889
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ : فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا ، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى ، فَأَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا مالک بن نضلہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہاتھوں کے تین مرتبے ہیں اللہ کا ہاتھ سب سے اوپر ہوتا ہے اور اس کے نیچے دینے والے کا ہاتھ ہوتا ہے اور مانگنے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے اس لئے تم زائد چیزوں کودے دیا کر و اور اپنے آپ سے عاجز نہ ہو جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15890
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِيفُ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مَالٌ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ , قَالَ : " فَمَا مَالُكَ ؟ " , فَقَالَ : مِنْ كُلِّ الْمَالِ ، مِنَ الْخَيْلِ , وَالْإِبِلِ , وَالرَّقِيقِ , وَالْغَنَمِ , قَالَ : " فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ " , فَقَالَ : " هَلْ تُنْتِجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا ، فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى ، فَتَقْطَعُهَا أَوْ تَقْطَعُهَا ، وَتَقُولُ : هَذِهِ بُحُرٌ ، وَتَشُقُّ جُلُودَهَا ، وَتَقُولُ : هَذِهِ صُرُمٌ ، فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ , قَالَ : " كُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ حِلٌّ ، وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ " ، وَرُبَّمَا قَالَهَا ، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهَا ، وَرُبَّمَا قَالَ : " سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يَقْرِنِي وَلَمْ يُكْرِمْنِي ، ثُمَّ نَزَلَ بِي ، أَقْرِهِ ، أَوْ أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ ؟ قَالَ : " بَلْ اقْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا مالک سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال دیکھا تو پوچھا : کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا : جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا : اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ تمہاری قوم میں کسی کے پاس یہاں اونٹ پیدا ہوتا ہے اس کے کان صحیح سالم ہوتے ہیں اور تم استرا پکڑ کر اس کے کان کاٹ دیتے ہواور کہتے ہو کہ یہ بحر ہے کبھی ان کی کھال چھیل ڈالتے ہواور کہتے ہو کہ یہ صرم ہے اور کبھی انہیں اپنے اہل خانہ پر حرام قرار دیتے ہوانہوں نے عرض کیا : ایساہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے تم کو جو کچھ عطا فرما رکھا ہے وہ سب حلال ہے اللہ کا بازو زیادہ طاقت ور ہے اور اللہ کا استرا زیادہ تیز ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ اگر میں کسی شخص کے ہاں مہمان جاؤ اور وہ میرا آ کرام کر ے اور نہ ہی مہمان نوازی پھر وہی شخص میرے یہاں مہمان بن کر آئے تو میں بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کر و جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا میں اس کی مہمان نوازی کر وں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی مہمان نوازی کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15891
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَشْعَثُ ، سَيِّئُ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا لَكَ مَالٌ ؟ " , قَالَ : مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً ، أَحَبَّ أَنْ تُرَى عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا مالک بن مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال دیکھاتوپوچھا : کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا : جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا : اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15892
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح