مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 537
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : زَعَمَ أَبُو الْمِقْدَامِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ ، فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ ، فَقَضَى بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ ، بِوَجْنَتِهِ نَكَتَاتُ جُدَرِيٍّ ، وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حسن بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا، میری نظر اچانک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر پڑی، وہ اپنی چادر کا تکیہ بنا کر اس سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، دو آدمی ان کے پاس جھگڑتے ہوئے آئے، انہوں نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیا ، پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں غور سے دیکھا تو وہ ایک حسین و جمیل آدمی تھے، ان کے رخسار پر چیچک کے کچھ نشانات تھے اور بالوں نے ان کے بازوؤں کو ڈھانپ رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 537
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف أبى المقدام - وأسمه هشام بن زياد القرشي
حدیث نمبر: 538
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ غُرَابٍ ، عَنْ بُنَانَةَ ، قَالَتْ : " مَا خَضَبَ عُثْمَانُ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
بنانہ کہتی ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کبھی خضاب نہیں لگایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 538
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة أم غراب
حدیث نمبر: 539
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيُّ ، عمن رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ضَبَّبَ أَسْنَانَهُ بِذَهَبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
دیکھنے والے کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں پر سونے کی تار چڑھا رکھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 539
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لإبهام الراوي الذى رأى عثمان
حدیث نمبر: 540
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بُشَيْرٍ إِمْلَاءً ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، " وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَهُوَ يَسْتَخْبِرُ النَّاسَ ، يَسْأَلُهُمْ عَنْ أَخْبَارِهِمْ وَأَسْعَارِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہیں، مؤذن اقامت کہہ رہا ہے اور وہ لوگوں سے ان کے حالات معلوم کر رہے ہیں، اور اشیاء کی قیمتوں کے نرخ دریافت فرما رہے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 540
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
حدیث نمبر: 541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ : " أَنَّ عُثْمَانَ سَجَدَ فِي ص " .
مولانا ظفر اقبال
سائب بن یزید کہتے ہیں ! کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سورت ص کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ بھی کیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 541
درجۂ حدیث محدثین: صحيح، سويد بن سعيد متابع
حدیث نمبر: 542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ بَيَّاعُ الْقَوَارِيرِ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ ، كَذَا قَالَ سُرَيْجٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُثْمَانَ الْعِيدَ فَكَبَّرَ سَبْعًا وَخَمْسًا " .
مولانا ظفر اقبال
فروخ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے عید کی نماز پڑھی ہے ، اس میں وہ سات اور پانچ تکبیریں کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 542
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف محبوب بن محرز وجهالة إبراهيم ابن عبدالله
حدیث نمبر: 543
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، وَذَكَرَ عُثْمَانَ وَشِدَّةَ حَيَائِهِ ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ لَيَكُونُ فِي الْبَيْتِ ، وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ ، فَمَا يَضَعُ عَنْهُ الثَّوْبَ لِيُفِيضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، يَمْنَعُهُ الْحَيَاءُ أَنْ يُقِيمَ صُلْبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حسن بصری رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کی شدتِ حیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگر وہ گھر کے اندر بھی ہوتے تو جب تک دروازہ کو اچھی طرح بند نہ کر لیتے ، اپنے جسم پر پانی بہانے کے لئے کپڑے نہ اتارتے تھے ، اور شرم و حیاء ہی انہیں کمر سیدھی کرنے سے مانع ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 543
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح. قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 544
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ ، وَغَيْرُهُ ، قَالُوا : " وَلِيَ عُثْمَانُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَكَانَتْ الْفِتْنَةُ خَمْسَ سِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
امیہ بن شبل وغیرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بارہ سال تک تخت خلافت پر متمکن رہے ، جن میں سے آخری پانچ سال آزمائش و امتحان کے گزرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 544
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع، أمية بن شبل قال عنه أحمد شاكر : ولا يمكن أن يكون أدرك عثمان ولا غيره من الصحابة
حدیث نمبر: 545
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : " وَقُتِلَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، لِثَمَانِ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابومعشر کہتے ہیں کہ ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت اٹھارہ ذی الحجہ بروز جمعہ ٣٥ ھ میں ہوئی ، آپ کی کل مدت خلافت بارہ دن کم بارہ سال تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 545
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع، أبو معشر ضعيف، ولم يدرك عثمان
حدیث نمبر: 546
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ : أَنَّ عُثْمَانَ " قُتِلَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ایام تشریق کے درمیان ہوئی ہے ۔ (ایام تشریق کو گزرے ہوئے بہت زیادہ دن نہ ہوئے تھے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 546
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 547
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ : " أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ تِسْعِينَ سَنَةً ، أَوْ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ کہتے ہیں کہ شہادت کے وقت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی عمر ٩٠ یا ٨٨ سال تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 547
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع، قتادة لم يدرك عثمان
حدیث نمبر: 548
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : " كُنَّا بِبَابِ عُثْمَانَ فِي عَشْرِ الْأَضْحَى " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ عشرہ ذی الحجہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے پر ہم پہرہ داری کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 548
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 549
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : " صَلَّى الزُّبَيْرُ عَلَى عُثْمَانَ ، وَدَفَنَهُ ، وَكَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور انہیں سپردخاک کر دیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہی کو یہ وصیت کی تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 549
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع، قتاده لم يدرك عثمان
حدیث نمبر: 550
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ : " قُتِلَ عُثْمَانُ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، فَكَانَتْ الْفِتْنَةُ خَمْسَ سِنِينَ ، مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ لِلْحَسَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ ٣٥ ھ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور پانچ سال آزمائش کے گزرے ، جن میں سے چار ماہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بھی خلیفہ رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 550
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع، عبدالله ابن محمد بن عقيل لم يدرك عثمان. قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 551
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : " كُنَّا بِبَابِ عُثْمَانَ فِي عَشْرِ الْأَضْحَى " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ عشرہ ذی الحجہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے پر ہم پہرہ داری کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 551
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ الْأَنْصَارِيُّ ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ ، فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَةِ الَّتِي تَلِي مَقَامَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَسَكَتُوا ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ : أَفِيكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَسَكَتُوا ، ثُمّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا ؟ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّكَ تَكُونُ فِي جَمَاعَةٍ تَسْمَعُ نِدَائِي آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ ثُمَّ لَا تُجِيبُنِي ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ ، تَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا ، لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرُكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا طَلْحَةُ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَمَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ رَفِيقٌ مِنْ أُمَّتِهِ مَعَهُ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ هَذَا يَعْنِينِي رَفِيقِي مَعِي فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ طَلْحَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ انْصَرَفَ .
مولانا ظفر اقبال
اسلم کہتے ہیں کہ جس دن ”موضع الجنائز“ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا، میں اس وقت وہاں موجود تھا، باغی اتنی بڑی تعداد میں تھے کہ اگر کوئی پتھر پھینکا جاتا تو یقیناً وہ کسی نہ کسی آدمی کے سر پر ہی گرتا، میں نے دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بالا خانے سے جو مقام جبرئیل کے قریب تھا جھانک کر نیچے دیکھا اور فرمایا کہ تم میں، اے لوگو ! طلحہ موجود ہیں ؟ لوگ خاموش رہے، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، بالآخر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر سامنے آ گئے۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر فرمایا : میرا خیال نہ تھا کہ آپ یہاں موجود ہوں گے، میں یہ سمجھتا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی گروہ میں موجود ہوں اور تین مرتبہ میری آواز سنیں پھر اس کا جواب نہ دیں، طلحہ ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ کو فلاں دن یاد ہے جب آپ اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں جگہ تھے، وہاں میرے اور آپ کے علاوہ کوئی صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! مجھے یاد ہے، عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا تھا کہ طلحہ ہر نبی کے ساتھ جنت میں اس کی امت میں سے کوئی نہ کوئی رفیق ضرور ہو گا اور یہ عثمان بن عفان جنت میرے رفیق ہوں گے ؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں ! ایسا ہی ہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 552
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف القاسم بن الحكم، وأبو عبادة الزرقي متروك
حدیث نمبر: 553
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ : أَنَّهُ شَهِدَ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ يَوْمًا ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا . . . وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی موجودگی میں وضو کے لئے پانی منگوایا، چنانچہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 553
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره، قتادة لم يسمع من مسلم بن يسار
حدیث نمبر: 554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَالَ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟ قُلْنَا : بَلَى ، فَدَعَا بِمَاءٍ ، " فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى مِرْفَقَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے پاس موجود حضرات سے فرمایا کیا میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! چنانچہ انہوں نے پانی منگوایا، تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرے کو دھویا، تین تین مرتبہ دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھویا، سر اور کانوں کا مسح کیا اور تین مرتبہ پاؤں دھوئے پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 554
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح، وهذا إسناد ضيعف لجهالة الرجل من الأنصار وأبيه
حدیث نمبر: 555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ حِقٍّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ : شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ اطِّلَاعَةً ، فَقَالَ : ادْعُوا لِي صَاحِبَيْكُمْ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ ، فَدُعِيَا لَهُ ، فَقَالَ : نَشَدْتُكُمَا اللَّهَ ، أَتَعْلَمَانِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ ، فَقَالَ : " مَنْ يَشْتَرِي هَذِهِ الْبُقْعَةَ مِنْ خَالِصِ مَالِهِ ، فَيَكُونَ فِيهَا كَالْمُسْلِمِينَ ، وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ " ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي ، فَجَعَلْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِئْرٌ يُسْتَعْذَبُ مِنْهُ إِلَّا رُومَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَشْتَرِيهَا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ ، فَيَكُونَ دَلْوُهُ فِيهَا كَدُلِيِّ الْمُسْلِمِينَ ، وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ " ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي ، فَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي صَاحِبُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
ثمامہ بن خزن قشیری کہتے ہیں کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، میں وہاں موجود تھا، عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے گھر سے جھانک کر دیکھا اور فرمایا : اپنے ان دو ساتھیوں کو بلا کر لاؤ جو تمہیں مجھ پر چڑھا لائے ہیں انہیں بلایا گیا ، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور مسجد نبوی تنگ ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”زمین کا یہ ٹکڑا اپنے مال سے خرید کر مسلمانوں کے لئے اسے وقف کون کرے گا ؟ اس کا عوض اسے جنت میں بہترین شکل میں عطاء کیا جائے گا“، چنانچہ میں خالص اپنے مال سے اسے خریدا اور مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا اب تم مجھے اس ہی میں دو رکعتیں پڑھنے سے روکتے ہو ؟ پھر فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت سوائے بیرِ رومہ کے میٹھے پانی کا کوئی اور کنواں نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کون ہے جو اسے خالص اپنے مال سے خریدے اور اپنا حصہ بھی مسلمانوں کے برابر رکھے ؟ اور آخرت میں جنت کے اندر بہترین بدلہ حاصل کر لے ؟“ چنانچہ میں نے اسے خالص اپنے مال سے خرید کر وقف کر دیا اب تم مجھے اس ہی کا پانی پینے سے روکتے ہو ؟ پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں غزوہ تبوک میں سامان جہاد مہیا کرنے والا ہوں لوگوں نے ان کی تصدیق کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 555
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح، وإسناده حسن
حدیث نمبر: 556
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ ، فَقَالَ لَهُ : ما لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَبْلِغْهُ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَأَمَّا قَوْلُهُ : " إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَتْ ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ ، فَقَدْ شَهِدَ " . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى آخِرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی ولید نے کہا : کیا بات ہے آپ امیرالمومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے ؟ انہوں نے کہا کہ میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دو، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اور غزوہ بدر سے پیچھے رہ جانے کا جو طعنہ انہوں نے مجھے دیا ہے تو اصل بات یہ ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی اور اپنی زوجہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری میں مصروف تھا، یہاں تک کہ وہ اسی دوران فوت ہو گئیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکاء بدر کے ساتھ مال غنیمت میں میرا حصہ بھی شامل فرمایا : اور یہ سمجھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا حصہ مقرر فرمایا وہ غزوہ بدر میں شریک تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 556
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 557
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : " كَيْفَ بَايَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَكْتُمْ عَلِيًّا ؟ قَالَ : مَا ذَنْبِي ؟ قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِيٍّ ، فَقُلْتُ : أُبَايِعُكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ ، وَسِيرَةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، قَالَ : فَقَالَ : فِيمَا اسْتَطَعْتُ ، قَالَ : ثُمَّ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ ، فَقَبِلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کس طرح کر لی ؟ انہوں نے فرمایا : اس میں میرا کیا جرم ہے ، میں نے تو پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ میں آپ سے بیعت کرتا ہوں کتاب اللہ ، سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرۃ حضرات شیخین رضی اللہ عنہ پر ، انہوں نے مجھ سے کہا کہ حسب استطاعت ایسا کرنے کی کوشش کروں گا لیکن جب میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی پیشکش کی تو انہوں نے اسے قبول کر لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 557
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف سفيان بن وكيع
حدیث نمبر: 558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ ، لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوصالح جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگو ! میں نے اب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی تاکہ تم لوگ مجھ سے جدا نہ ہو جاؤ لیکن اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم سے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی جو مناسب سمجھے اسے اختیار کر لے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 558
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بَاهِلِيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، وَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 559
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة عكرمة بن إبراهيم ، وعبدالرحمن بن ابي ذباب
حدیث نمبر: 560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : كُنْتُ أَبْتَاعُ التَّمْرَ مِنْ بَطْنٍ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو قَيْنُقَاعٍ ، فَأَبِيعُهُ بِرِبْحِ الْآصُعِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ ، وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے میں یہودیوں کے ایک خاندان اور قبیلہ سے ”جنہیں بنو قینقاع کہا جاتا تھا“ ، کھجوریں خریدتا تھا اور اپنا منافع رکھ کر آگے بیچ دیتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا : ”عثمان ! جب خریدا کرو تو اسے تول لیا کرو اور جب بیچا کرو تو تول کر بیچا کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 560
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن، فإنه من قديم حديث ابن لهيعة
حدیث نمبر: 561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ لَهُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِالْحَقِّ ، فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، وَآمَنَ بِمَا بَعَثَ بِهِ مُحَمَّدًا عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ ، وَلَا غَشَشْتُهُ ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عدی بن الخیار کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا : : اللہ و رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں ، میں بھی تھا ، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ایمان لانے والوں میں ، میں بھی تھا ، پھر میں نے حبشہ کی طرف دونوں مرتبہ ہجرت کی ، مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت بھی کی ہے ، اللہ کی قسم ! میں نے نہ کبھی ان کی نافرمانی کی اور نہ ہی دھوکہ دیا ، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 561
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ: 3696

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔