حدیث نمبر: 82
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا وَخَيْلًا وَرَقِيقًا ، نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ ، قَالَ : مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلَهُ ، وَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِيهِمْ عَلِيٌّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : " هُوَ حَسَنٌ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حارثہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شام کے کچھ لوگ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمیں کچھ مال و دولت ، گھوڑے اور غلام ملے ہیں ، ہماری خواہش ہے کہ ہمارے لئے اس میں پاکیزگی اور تزکیہ نفس کا سامان پیدا ہو جائے ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے میرے دو پیشرو جس طرح کرتے تھے میں بھی اسی طرح کروں گا ، پھر انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا ، ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، وہ فرمانے لگے کہ یہ مال حلال ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ اسے ٹیکس نہ بنا لیں کہ بعد میں بھی لوگوں سے وصول کرتے رہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 82
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 83
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ : أَنَّ الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ كَانَ نَصْرَانِيًّا تَغْلِبِيًّا أَعْرَابِيًّا فَأَسْلَمَ ، فَسَأَلَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ فَقِيلَ لَهُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَرَادَ أَنْ يُجَاهِدَ ، فَقِيلَ لَهُ : حَجَجْتَ ؟ فَقَالَ : لَا ، فَقِيلَ : حُجَّ وَاعْتَمِرْ ، ثُمَّ جَاهِدْ ، فَانْطَلَقَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْحَوَائطِ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا ، فَرَآهُ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَقَالَا : لَهُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِهِ ، أَوْ : مَا هُوَ بِأَهْدَى مِنْ نَاقَتِهِ ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا ، فَقَالَ : " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ الْحَكَمُ : فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ : حَدَّثَكَ الصُّبَيُّ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابو وائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد ایک دیہاتی قبیلہ بنو تغلب کے عیسائی تھے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ، انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا ، چنانچہ انہوں نے جہاد کا ارادہ کر لیا ، اسی اثناء میں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے حج کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! اس نے کہا : آپ پہلے حج اور عمرہ کر لیں ، پھر جہاد میں شرکت کریں ۔ چنانچہ وہ حج کی نیت سے روانہ ہو گئے اور میقات پر پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے ، صبی جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا ، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کو اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر رہنمائی نصیب ہو گئی ۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے پوچھا کہ یہ روایت آپ کو خود صبی نے سنائی ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 83
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 84
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا عُمَرُ بِجَمْعٍ الصُّبْحَ ، ثُمَّ وَقَفَ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ہمیں مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھائی ، پھر وقوف کیا اور فرمایا کہ مشرکین طلوع آفتاب سے پہلے واپس نہیں جاتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا طریقہ اختیار نہیں کیا ، اس کے بعد سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہو گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 84
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ: 1684
حدیث نمبر: 85
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ أَبِي : فَحَدَّثَتُ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ ، قَالَ : وَمَا أَعْجَبَكَ مِنْ ذَلِكَ ؟ كَانَ عُمَرُ إِذَا دَعَا الْأَشْيَاخَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي مَعَهُمْ ، فَقَالَ : لَا تَتَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا ، قَالَ : فَدَعَانَا ذَاتَ يَوْمٍ ، أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا ، فَفِي أَيِّ الْوِتْرِ تَرَوْنَهَا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلاتے تو مجھے بھی ان کے ساتھ بلا لیتے اور مجھ سے فرماتے کہ جب تک یہ حضرات بات نہ کر لیں ، تم کوئی بات نہ کرنا ۔ اسی طرح ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں بلایا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا ہے ، وہ آپ کے علم میں بھی ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو ، یہ بتائیے کہ آپ کو آخری عشرے کی کس طاق رات میں شب قدر معلوم ہوتی ہے ؟ (ظاہر ہے کہ ہر صحابی کا جواب مختلف تھا ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو میری رائے اچھی معلوم ہوئی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 85
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
حدیث نمبر: 86
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عَمْرٍو الْبَجَلِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ سَأَلُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالُوا لَهُ : إِنَّمَا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا ، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَعَنِ الرَّجُلِ مَا يَصْلُحُ لَهُ مِنَ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا ، فَقَالَ : أَسُحَّارٌ أَنْتُمْ ؟ ! لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ ، فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ " ، وَقَالَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ : " يَغْسِلُ فَرْجَهُ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا " ، وَقَالَ فِي الْحَائِضِ : " لَهُ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ ہم آپ سے تین سوال پوچھنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں ۔ گھر میں نفلی نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ غسل جنابت کا کیا طریقہ ہے ؟ اگر عورت ”ایام“ میں ہو تو مرد کے لئے کہاں تک اجازت ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ لوگ بڑے عقلمند محسوس ہوتے ہیں ، میں نے ان چیزوں سے متعلق جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، اس وقت سے لے کر آج تک مجھ سے کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا جو آپ لوگوں نے پوچھا ہے اور فرمایا کہ انسان گھر میں جو نفلی نماز پڑھتا ہے تو وہ نور ہے اس لئے جو چاہے اپنے گھر کو منور کر لے ، غسل جنابت کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا پہلے اپنی شرمگاہ کو دھوئے ، پھر وضو کرے اور پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال کر حسب عادت غسل کرے اور ایام والی عورت کے متعلق فرمایا کہ ازار سے اوپر کا جتنا حصہ ہے ، مرد اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 86
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه عاصم. وقوله : يغسل فرجه ثم يتوضأ .... له ما فوق الازار صحيح بالشواهد
حدیث نمبر: 87
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ بِالْعِرَاقِ حِينَ يَتَوَضَّأُ ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ لِي : سَلْ أَبَاكَ عَمَّا أَنْكَرْتَ عَلَيَّ مِنْ مَسْحِ الْخُفَّيْنِ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِذَا حَدَّثَكَ سَعْدٌ بِشَيْءٍ ، فَلَا تَرُدَّ عَلَيْهِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے عراق میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا جب کہ وہ وضو کر رہے تھے تو مجھے اس پر بڑا تعجب اور اچنبھا ہوا ، بعد میں جب ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایک مجلس میں اکٹھے ہوئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے سے فرمایا کہ آپ کو «مسح على الخفين» کے بارے مجھ پر جو تعجب ہو رہا تھا ، اس کے متعلق اپنے والد صاحب سے پوچھ لیجئے ، میں نے ان کے سامنے سارا واقعہ ذکر کر دیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے کوئی حدیث بیان کریں تو آپ اس کی تردید مت کیا کریں ، کیونکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مورزوں پر مسح فرماتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 87
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 88
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ " ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سَأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، إِذَا حَدَّثَكَ سَعْدٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُ غَيْرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا ہے ، بعد میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا : یہ بات صحیح ہے ، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے کوئی حدیث بیان کریں تو آپ اس کے متعلق کسی دوسرے سے نہ پوچھا کریں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 88
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ: 202
حدیث نمبر: 89
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رُؤْيَا لَا أُرَاهَا إِلَّا لِحُضُورِ أَجَلِي ، رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَتَيْنِ ، قَالَ : وَذُكَرَ لِي أَنَّهُ دِيكٌ أَحْمَرُ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَتْ : يَقْتُلُكَ رَجُلٌ مِنَ الْعَجَمِ ، قَالَ : وَإِنَّ النَّاسَ يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ ، وَخِلَافَتَهُ الَّتِي بَعَثَ بِهَا نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ يَعْجَلْ بِي أَمْرٌ فَإِنَّ الشُّورَى فِي هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ مَاتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ، فَمَنْ بَايَعْتُمْ مِنْهُمْ ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ، وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّ أُنَاسًا سَيَطْعَنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ ، أَنَا قَاتَلْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، أُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ الْكُفَّارُ الضُّلَّالُ ، وَايْمُ اللَّهِ ، مَا أَتْرُكُ فِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي فَاسْتَخْلَفَنِي شَيْئًا أَهَمَّ إِلَيَّ مِنَ الْكَلَالَةِ ، وَايْمُ اللَّهِ ، مَا أَغْلَظَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ صَحِبْتُهُ أَشَدَّ مَا أَغْلَظَ لِي فِي شَأْنِ الْكَلَالَةِ ، حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : " تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ ، الَّتِي نَزَلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ ، وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ فَسَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءٍ يَعْلَمُهُ مَنْ يَقْرَأُ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ " وَإِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ ، إِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ ، وَيُبَيِّنُوا لَهُمْ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا عُمِّيَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ : هَذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ ، وَايْمُ اللَّهِ ، " لَقَدْ كُنْتُ أَرَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ ، فَيَأْمُرُ بِهِ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ ، فَيُخْرَجُ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الْبَقِيعَ " ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا لَا بُدَّ ، فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا . قَالَ : فَخَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَأُصِيبَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ کے لئے تشریف لائے ، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ کی ، پھر فرمانے لگے کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آ گیا ہے ، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک مرغے نے مجھے دو مرتبہ ٹھونگ ماری ہے ، مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ مرغ سرخ رنگ کا تھا ، میں نے یہ خواب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ آپ کو ایک عجمی شخص شہید کر دے گا ۔ پھر فرمایا کہ لوگ مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنا خلیفہ مقرر کر دوں ، اتنی بات تو طے ہے کہ اللہ نہ اپنے دین کو ضائع کرے گا اور نہ ہی اس خلافت کو جس کے ساتھ اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرمایا تھا ، اب اگر میرا فیصلہ جلد ہو گیا تو میں مجلس شوریٰ ان چھ افراد کی مقرر کر رہا ہوں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوقت رحلت راضی ہو کر تشریف لے گئے تھے ، جب تم ان میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو تو ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو ۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ مسئلہ خلافت میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کریں گے ، بخدا ! میں اپنے ان ہاتھوں سے اسلام کی مدافعت میں ان لوگوں سے قتال کر چکا ہوں ، یہ لوگ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہیں ، اللہ کی قسم ! میں نے اپنے پیچھے کلالہ سے زیادہ اہم مسئلہ کوئی نہیں چھوڑا جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہو اور اللہ کی قسم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کرنے کے بعد مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی مسئلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ناراض ہوئے ہوں ، سوائے کلالہ کے مسئلہ کے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی سخت ناراض ہوئے تھے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی میرے سینے پر رکھ کر فرمایا کہ تمہارے لئے اس مسئلے میں سورت نساء کی وہ آخری آیت ”جو گرمی میں نازل ہوئی تھی“ کافی ہے ۔ اگر میں زندہ رہا تو اس مسئلہ کا ایساحل نکال کر جاؤں گا کہ اس آیت کو پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے سب ہی کے علم میں وہ حل آ جائے، اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے مختلف شہروں میں جو امراء اور گورنر بھیجے ہیں وہ صرف اس لئے کہ لوگوں کو دین سکھائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں لوگوں کے سامنے بیان کریں اور میرے سامنے ان کے وہ مسائل پیش کریں جن کا ان کے پاس کوئی حل نہ ہو ۔ لوگو ! تم دو ایسے درختوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں گندہ سمجھتاہوں ایک لہسن اور دوسرا پیاز (کچا کھانے سے منہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے) بخدا ! میں نے دیکھا ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کے منہ سے اس کی بدبو آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیا جاتا تھا اور یہی نہیں بلکہ اس کو جنت البقیع تک پہنچا کر لوگ واپس آتے ، اگر کوئی شخص انہیں کھانا ہی چاہتا ہے تو پکا کر ان کی بو مار دے ۔ راوی کہتے ہیں کہ جمعہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا اور بدھ کو آپ پر قاتلانہ حملہ ہو گیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 89
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، م: 567
حدیث نمبر: 90
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ ، والْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ إِلَى أَمْوَالِنَا بِخَيْبَرَ نَتَعَاهَدُهَا ، فَلَمَّا قَدِمْنَاهَا تَفَرَّقْنَا فِي أَمْوَالِنَا ، قَالَ : فَعُدِيَ عَلَيَّ تَحْتَ اللَّيْلِ ، وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى فِرَاشِي ، فَفُدِعَتْ يَدَايَ مِنْ مِرْفَقِي ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اسْتُصْرِخَ عَلَيَّ صَاحِبَايَ ، فَأَتَيَانِي ، فَسَأَلَانِي عَمَّنْ صَنَعَ هَذَا بِكَ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَأَصْلَحَا مِنْ يَدَيَّ ، ثُمَّ قَدِمُوا بِي عَلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : هَذَا عَمَلُ يَهُودَ ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّا نُخْرِجُهُمْ إِذَا شِئْنَا ، وَقَدْ عَدَوْا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَفَدَعُوا يَدَيْهِ كَمَا بَلَغَكُمْ ، مَعَ عَدْوَتِهِمْ عَلَى الْأَنْصَارِ قَبْلَهُ ، لَا نَشُكُّ أَنَّهُمْ أَصْحَابُهُمْ ، لَيْسَ لَنَا هُنَاكَ عَدُوٌّ غَيْرَهُمْ ، فَمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ بِخَيْبَرَ فَلْيَلْحَقْ بِهِ ، فَإِنِّي مُخْرِجٌ يَهُودَ ، فَأَخْرَجَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیبر میں اپنے اپنے مال کی دیکھ بھال کے سلسلے میں گیا ہوا تھا ، جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو ہر ایک اپنی اپنی زمین کی طرف چلا گیا ، میں رات کے وقت اپنے بستر پر سو رہا تھا کہ مجھ پر کسی نے حملہ کر دیا ، میرے دونوں ہاتھ اپنی کہنیوں سے ہل گئے ، جب صبح ہوئی میرے دونوں ساتھیوں کو اس حادثے کی خبر دی گئی ، وہ آئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ یہ کس نے کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ مجھے کچھ خبر نہیں ہے ۔ انہوں نے میرے ہاتھ کی ہڈی کو صحیح جگہ پر بٹھایا اور مجھے لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے ، انہوں نے فرمایا : یہ یہودیوں کی ہی کارستانی ہے ، اس کے بعد وہ لوگوں کے سامنے خطاب کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا : لوگو ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کے ساتھ معاملہ اس شرط پر کیا تھا کہ ہم جب انہیں چاہیں گے ، نکال سکیں گے ، اب انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر حملہ کیا ہے اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ انہوں نے اس کے ہاتھوں کے جوڑ ہلا دئیے ہیں ، جب کہ اس سے قبل وہ ایک انصاری کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ کر چکے ہیں ، ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان ہی کے ساتھی ہیں ، ہمارا ان کے علاوہ یہاں کوئی دشمن نہیں ہے ، اس لئے خیبر میں جس شخص کا بھی کوئی مال موجود ہو ، وہ وہاں چلاجائے کیونکہ اب میں یہودیوں کو وہاں سے نکالنے والا ہوں ، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خیبر سے بےدخل کر کے نکال دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 90
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، خ: 2730
حدیث نمبر: 91
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فقال عمر : لم تحتسبون عَنِ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ ، فَتَوَضَّأْتُ ، فَقَالَ : أَيْضًا ! أَوَلَمْ تَسْمَعُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَلْيَغْتَسِلْ " ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، دوران خطبہ ایک صاحب آئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ نماز کے لئے آنے میں اتنی تاخیر ؟ انہوں نے جواباً کہا کہ میں نے تو جیسے ہی اذان سنی ، وضو کرتے ہی آ گیا ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اچھا ، کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے جائے تو اسے غسل کر لینا چاہیے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 91
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ : 882، م: 845
حدیث نمبر: 92
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ : يَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ ، وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ ، وَلَبُوسَ الْحَرِيرِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ ، وَقَالَ : " إِلَّا هَكَذَا " ، وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ ہم آذربائیجان میں تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خط آ گیا ، جس میں لکھا تھا : اے عتبہ بن فرقد ! عیش پرستی ، ریشمی لباس اور مشرکین کے طریقوں کو اختیار کرنے سے اپنے آپ کو بچاتے رہنا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشمی لباس پہننے سے منع فرمایا ہے سوائے اتنی مقدار کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی بلند کر کے دکھائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 92
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ: 5829، م: 2069
حدیث نمبر: 93
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى سَفَطٍ أُتِيَ بِهِ مِنْ قَلْعَةٍ مِنَ الْعِرَاقِ ، فَكَانَ فِيهِ خَاتَمٌ ، فَأَخَذَهُ بَعْضُ بَنِيهِ ، فَأَدْخَلَهُ فِي فِيهِ ، فَانْتَزَعَهُ عُمَرُ مِنْهُ ، ثُمَّ بَكَى عُمَرُ ، فَقَالَ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ : لِمَ تَبْكِي وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ لَكَ ، وَأَظْهَرَكَ عَلَى عَدُوِّكَ ، وَأَقَرَّ عَيْنَكَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُفْتَحُ الدُّنْيَا عَلَى أَحَدٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، وَأَنَا أُشْفِقُ مِنْ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ابوسنان دؤلی رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت مہاجرین اولین کی ایک جماعت ان کی خدمت میں موجود اور حاضر تھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بکس منگوایا جو ان کے پاس عراق سے لایا گیا تھا ، جب اسے کھولا گیا تو اس میں سے ایک انگوٹھی نکلی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کسی بیٹے پوتے نے وہ لے کر اپنے منہ میں ڈال لی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ واپس لے لی اور رونے لگے ۔ حاضرین نے پوچھا کہ آپ کیوں روتے ہیں ؟ جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی فتوحات عطاء فرمائیں ، دشمن پر آپ کو غلبہ عطاء فرمایا اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا ؟ فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ”جس شخص پر اللہ دنیا کا دروازہ کھول دیتا ہے ، وہاں آپس میں قیامت تک کے لئے دشمنیاں اور نفرتیں ڈال دیتا ہے“ ، مجھے اسی کا خطرہ ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 93
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، و محمد بن عبدالرحمن بن لبيبة
حدیث نمبر: 94
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ يَصْنَعُ أَحَدُنَا إِذَا هُوَ أَجْنَبَ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ لِيَنَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر ہم میں سے کوئی شخص ناپاک ہو جائے اور وہ غسل کرنے سے پہلے سونا چاہے تو کیا کرے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نماز والا وضو کر کے سو جائے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 94
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 95
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَلَى عَدُوِّ اللَّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، يُعَدِّدُ أَيَّامَهُ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ ، حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ ، قَالَ : " أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ ، إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ ، وَقَدْ قِيلَ : اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 ، لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي إِنْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ " ، قَالَ : ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَمَشَى مَعَهُ ، فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ ، قَالَ : فَعَجَبٌ لِي وَجَرَاءَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ : وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ سورة التوبة آية 84 ، فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ ، وَلَا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے بلایا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے پاس جا کر نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں اپنی جگہ سے گھوم کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس دشمن اللہ عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جس نے فلاں دن یہ کہا تھا اور فلاں دن یہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بکواسات گنوانا شروع کر دیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے لیکن جب میں برابر اصرار کرتا ہی رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ”عمر ! پیچھے ہٹ جاؤ ، مجھے اس بارے اختیار دیا گیا ہے اور میں نے ایک شق کو ترجیح دے لی ہے ، مجھ سے کہا گیا ہے کہ آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں دونوں صورتیں برابر ہیں ، اگر آپ ستر مرتبہ بھی ان کے لئے بخشش کی درخواست کریں گے تب بھی اللہ ان کی بخشش نہیں فرمائے گا ، اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرنے پر اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں ستر سے زائد مرتبہ اس کے لئے استغفار کرتا ۔“ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ، جنازے کے ساتھ گئے اور اس کی قبر پر کھڑے رہے تاآنکہ وہاں سے فراغت ہو گئی ، مجھے خود پر اور اپنی جرات پر تعجب ہو رہا تھا ، حالانکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ بہتر جانتے تھے ، بخدا ! ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ مندرجہ ذیل دو آیتیں نازل ہو گئیں ۔ «وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ» [9-التوبة:84] ”ان منافقین میں سے اگر کوئی مر جائے تو آپ کبھی اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں اس کی قبر پہ کھڑے نہ ہوں ، بیشک یہ لوگ تو اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں اور فسق کی حالت میں مرے ہیں ۔“ اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی اور اسی طرح منافقین کی قبروں پر بھی کبھی نہیں کھڑے ہوئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 95
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، خ: 1366
حدیث نمبر: 96
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، كَمَا حَدَّثَنِي عَنْهُ نَافِعٌ مَوْلَاهُ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : " إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلرَّجُلِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، فَلْيَأْتَزِرْ بِهِ ثُمَّ لِيُصَلِّ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ ذَلِكَ ، وَيَقُولُ : " لَا تَلْتَحِفُوا بِالثَّوْبِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ كَمَا تَفْعَلُ الْيَهُودُ " ، قَالَ نَافِعٌ : وَلَوْ قُلْتُ لَكُمْ إِنَّهُ أَسْنَدَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَجَوْتُ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُ .
مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے اگر کسی آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو ، وہ اسی کو تہبند کے طور پر باندھ لے اور نماز پڑھ لے ، کیونکہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے اور وہ یہ بھی فرماتے تھے کہ اگر ایک ہی کپڑا ہو تو اسے لحاف کی طرح مت لپیٹے جیسے یہودی کرتے ہیں ، نافع کہتے ہیں کہ اگر میں یہ کہوں کہ انہوں نے اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ہے تو امید ہے کہ میں جھوٹا نہیں ہوں گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 96
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 97
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، قِيلَ لَهُ : ادْخُلْ الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے آٹھ میں سے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جاؤ ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 97
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيء الحفظ تابعه الطيالسي، وشهر وثقه جماعة والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 98
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : حَذَفَ رَجُلٌ ابْنًا لَهُ بِسَيْفٍ ، فَقَتَلَهُ ، فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يُقَادُ الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ " ، لَقَتَلْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَبْرَحَ .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے تلوار کے وار کر کے اپنے بیٹے کو مار ڈالا ، اسے پکڑ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ والد سے اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا تو میں تجھے بھی قتل کر دیتا اور تو یہاں سے اٹھنے بھی نہ پاتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 98
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره، وهذا الإسناد فيه انقطاع، مجاهد لم يدرك عمر بن الخطاب
حدیث نمبر: 99
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ نَظَرَ إِلَى الْحَجَرِ ، فَقَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ ، لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ، مَا قَبَّلْتُكَ " ، ثُمَّ قَبَّلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی نظریں حجر اسود پر جما رکھی ہیں اور اس سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں بخدا ! اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ، یہ کہہ کر آپ نے اسے بوسہ دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 99
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ: 1597، م: 1270
حدیث نمبر: 100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا ، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ ، كَرِهْتَهَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ عُمَرُ : فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا ، وَأَنَا بِخَيْرٍ ، وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ عَمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ عُمَرُ : فَلَا تَفْعَلْ ، فَإِنِّي قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ ، فَأَقُولُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا ، فَقُلْتُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ ، وَتَصَدَّقْ بِهِ ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ ، وَلَا سَائِلٍ ، فَخُذْهُ ، وَمَا لَا ، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ عبداللہ بن سعدی رحمہ اللہ خلافت فاروقی کے زمانے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر فرمایا : کیا تم وہی ہو جس کے متعلق مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ تمہیں عوام الناس کی کوئی ذمہ داری سونپی گئی ہے لیکن جب تمہیں اس کی تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اسے لینے سے ناگواری کا اظہار کرتے ہو ؟ عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : جی ہاں ! ایسا ہی ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس سے تمہارا کیا مقصد ہے ؟ میں نے عرض کیا : میرے پاس اللہ کے فضل سے گھوڑے اور غلام سب ہی کچھ ہے اور میں مالی اعتبار سے بھی صحیح ہوں اس لئے میری خواہش ہوتی ہے کہ میری تنخواہ مسلمانوں کے ہی کاموں میں استعمال ہو جائے ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا مت کرو ، کیونکہ ایک مرتبہ میں نے بھی یہی چاہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ دینا چاہتے تو میں عرض کر دیتا کہ یا رسول اللہ ! مجھ سے زیادہ جو محتاج لوگ ہیں ، یہ انہیں دے دیجئے ، اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال و دولت عطاء فرمایا : میں نے حسب سابق یہی عرض کیا کہ مجھ سے زیادہ کسی ضرورت مند کو دے دیجئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے لے لو اپنے مال میں اضافہ کرو ، اس کے بعد صدقہ کر دو اور یاد رکھو ! اگر تمہاری خواہش اور سوال کے بغیر کہیں سے مال آئے تو اسے لے لیا کرو ، ورنہ اس کے پیچھے نہ پڑا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 100
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ: 7163، م: 1045
حدیث نمبر: 101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ دَرَّاجٍ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ سَبَّحَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ ، فَرَآهُ عُمَرُ ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ربیعہ بن دراج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوران سفر مکہ مکرمہ کے راستے میں عصر کے بعد دو رکعت نماز بطور نفل کے پڑھ لی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ آپ کو معلوم بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 101
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي سَهْمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ : مَاجِدَةُ ، قَالَ : عَارَمْتُ غُلَامًا بِمَكَّةَ ، فَعَضَّ أُذُنِي ، فَقَطَعَ مِنْهَا ، أَوْ : عَضِضْتُ أُذُنَهُ ، فَقَطَعْتُ مِنْهَا ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ حَاجًّا ، رُفِعْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : انْطَلِقُوا بِهِمَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَإِنْ كَانَ الْجَارِحُ بَلَغَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ فَلْيَقْتَصَّ ، قَالَ : فَلَمَّا انْتُهِيَ بِنَا إِلَى عُمَرَ ، نَظَرَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَدْ بَلَغَ هَذَا أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ ، ادْعُوا لِي حَجَّامًا ، فَلَمَّا ذَكَرَ الْحَجَّامَ ، قَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَدْ أَعْطَيْتُ خَالَتِي غُلَامًا ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَارِكَ اللَّهُ لَهَا فِيهِ ، وَقَدْ نَهَيْتُهَا أَنْ تَجْعَلَهُ حَجَّامًا أَوْ قَصَّابًا أَوْ صَائِغًا " .
مولانا ظفر اقبال
ماجدہ نامی ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں ایک لڑکے کی ہڈی سے گوشت چھیل ڈالا ، اس نے میرا کان اپنے دانتوں میں چبا کر کاٹ ڈالا ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حج کے ارادے سے ہمارے یہاں تشریف لائے تو یہ معاملہ ان کی خدمت میں پیش کیا گیا ، انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ ، اگر زخم لگانے والا قصاص کے درجے تک پہنچتا ہو تو اس سے قصاص لینا چاہیے ۔ جب ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے جایا گیا اور انہوں نے ہمارے احوال سنے تو فرمایا : ہاں ! یہ قصاص کے درجے تک پہنچتا ہے اور فرمایا کہ میرے پاس حجام کو بلا کر لاؤ ، جب حجام کا ذکر آیا تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ان کے لئے باعث برکت بنائے گا اور میں نے انہیں اس بات سے منع کیا ہے کہ اسے حجام یا قصائی یا رنگ ریز بنائیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 102
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة الرجل من بني سهم، وجهالة ماجدة
حدیث نمبر: 103
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَهْمٍ ، عَنِ ابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : حَجَّ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي خِلَافَتِهِ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی منقول ہے جو عبارت میں ذکر ہوئی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 103
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 104
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَخَّصَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَضَى لِسَبِيلِهِ ، فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَحَصِّنُوا فُرُوجَ هَذِهِ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو جو رخصت دینی تھی سو دے دی اور وہ اس دارفانی سے کوچ کر گئے ، اس لئے آپ لوگ حج اور عمرہ مکمل کیا کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم بھی دیا ہے اور ان عورتوں کی شرمگاہوں کی حفاطت کرو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 104
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، م: 1217
حدیث نمبر: 105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَرْقُدُ الرَّجُلُ إِذَا أَجْنَبَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہو جائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ! وضو کر لے اور سو جائے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 105
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ دَرَّاجٍ : " أَنَّ عَلِيًّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ عُمَرُ ، وَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ربیعہ بن دراج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوران سفر مکہ مکرمہ کے راستے میں عصر کے بعد دو رکعت نماز بطور نفل کے پڑھ لی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ آپ کو معلوم بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 106
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " خَرَجْتُ أَتَعَرَّضُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْحَاقَّةِ ، فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ تَأْلِيفِ الْقُرْآنِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَذَا وَاللَّهِ شَاعِرٌ كَمَا قَالَتْ قُرَيْشٌ ، قَالَ : فَقَرَأَ : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلا مَا تُؤْمِنُونَ سورة الحاقة آية 40 - 41 ، قَالَ : قُلْتُ : كَاهِنٌ ، قَالَ : وَلا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلا مَا تَذَكَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأَقَاوِيلِ لأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ سورة الحاقة آية 42 - 47 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ، قَالَ : فَوَقَعَ الْإِسْلَامُ فِي قَلْبِي كُلَّ مَوْقِعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں قبول اسلام سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے ارادے سے نکلا لیکن پتہ چلا کہ وہ مجھ سے پہلے ہی مسجد میں جا چکے ہیں ، میں جا کر ان کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ حاقہ کی تلاوت شروع کر دی ، مجھے نظم قرآن اور اس کے اسلوب سے تعجب ہونے لگا ، میں نے اپنے دل میں سوچا واللہ ! یہ شخص شاعر ہے جیسا کہ قریش کہتے ہیں ، اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر پہنچ گئے کہ ”وہ تو ایک معزز قاصد کا قول ہے کسی شاعر کی بات تھوڑی ہے لیکن تم ایمان بہت کم لاتے ہو ۔ “ یہ سن کر میں نے اپنے دل میں سوچا یہ تو کاہن ہے ، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ”اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے ، تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو ، یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اگر یہ پیغمبر ہماری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے تو ہم اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیں اور اس کی گردن توڑ ڈالیں اور تم میں سے کوئی ان کی طرف سے رکا وٹ نہ بن سکے۔ “ یہ آیات سن کر اسلام نے میرے دل میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑنا شروع کردئیے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 107
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يدرك عمر
حدیث نمبر: 108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، وَغَيْرِهِمَا ، قَالُوا : لَمَّا بَلَغَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَرَغَ حُدِّثَ أَنَّ بِالشَّامِ وَبَاءً شَدِيدًا ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ شِدَّةَ الْوَبَاءِ فِي الشَّامِ ، فَقُلْتُ : إِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ حَيٌّ ، اسْتَخْلَفْتُهُ ، فَإِنْ سَأَلَنِي اللَّهُ لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينًا ، وَأَمِينِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " ، فَأَنْكَرَ الْقَوْمُ ذَلِكَ ، وَقَالُوا : مَا بَالُ عُلْيَا قُرَيْشٍ ؟ ! يَعْنُونَ بَنِي فِهْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : فَإِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي ، وَقَدْ تُوُفِّيَ أَبُو عُبَيْدَةَ ، اسْتَخْلَفْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، فَإِنْ سَأَلَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ ؟ قُلْتُ : سَمِعْتُ رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيْ الْعُلَمَاءِ نَبْذَةً " .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن عبید اور راشد بن سعید وغیرہ کہتے ہیں کہ سفر شام میں جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ”سرغ“ نامی مقام پر پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ شام میں طاعون کی بڑی سخت وباء پھیلی ہوئی ہے ، یہ خبر سن کر انہوں نے فرمایا کہ مجھے شام میں طاعون کی وباء پھیلنے کی خبر ملی ہے ، میری رائے یہ ہے کہ اگر میرا آخری وقت آ پہنچا اور ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ زندہ ہوئے تو میں انہیں اپنا خلیفہ نامزد کر دوں گا اور اگر اللہ نے مجھ سے اس کے متعلق باز پرس کی کہ تو نے امت مسلمہ پر انہیں اپنا خلیفہ کیوں مقرر کیا ؟ تو میں کہہ دوں گا کہ میں نے آپ ہی کے پیغمبر کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے اور میرا امین ابوعبیدہ بن الجراح ہے ۔ لوگوں کو یہ بات اچھی نہ لگی اور وہ کہنے لگے کہ اس صورت میں قریش کے بڑے لوگوں یعنی بنی فہر کا کیا بنے گا ؟ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر میری موت سے پہلے ابوعبیدہ فوت ہو گئے تو میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ مقرر کردوں گا اور اگر اللہ نے مجھ سے پوچھا کہ تو نے اسے کیوں خلیفہ مقرر کیا ؟ تو میں کہہ دوں گا کہ میں نے آپ کے پیغمبر کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ وہ قیامت کے دن علماء کے درمیان ایک جماعت کی صورت میں اٹھائے جائیں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 108
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أن شريح بن عبيد وراشد بن سعد لم يدركا عمر
حدیث نمبر: 109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : وُلِدَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ ، فَسَمَّوْهُ : الْوَلِيدَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَمَّيْتُمُوهُ بِأَسْمَاءِ فَرَاعِنَتِكُمْ ، لَيَكُونَنَّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : الْوَلِيدُ ، لَهُوَ شَرٌّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ فِرْعَوْنَ لِقَوْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ، انہوں نے بچے کا نام ولید رکھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم نے اس بچے کا نام اپنے فرعونوں کے نام پر رکھا ہے (کیونکہ ولید بن مغیرہ مشرکین مکہ کا سردار اور مسلمانوں کو اذیتیں پہنچانے میں بہت سرگرم تھا) میری امت میں ایک آدمی ہو گا جس کا نام ولید ہو گا جو اس امت کے حق میں فرعون سے بھی زیادہ بدتر ہو گا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 109
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، سعيد بن المسيب لم يسمعه من عمر
حدیث نمبر: 110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِى الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فيهُمْ عُمَرُ ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایسے لوگوں نے اس بات کی شہادت دی ہے ”جن کی بات قابل اعتماد ہوتی ہے ، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو میری نظروں میں ان میں سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں“ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے اور فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 110
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ: 581، م: 826
حدیث نمبر: 111
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ : أَنَّهُ رَكِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ ، قَالَ : فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ : مَا أَقْدَمَكَ ؟ قَالَ : لِأَسْأَلَكَ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ ، قَالَ : وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : " رُبَّمَا كُنْتُ أَنَا وَالْمَرْأَةُ فِي بِنَاءٍ ضَيِّقٍ ، فَتَحْضُرُ الصَّلَاةُ ، فَإِنْ صَلَّيْتُ أَنَا وَهِيَ ، كَانَتْ بِحِذَائِي ، وَإِنْ صَلَّتْ خَلْفِي ، خَرَجَتْ مِنَ الْبِنَاءِ ، فَقَالَ عُمَرُ : تَسْتُرُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بِثَوْبٍ ، ثُمَّ تُصَلِّي بِحِذَائِكَ إِنْ شِئْتَ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَعَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : " نَهَانِي عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قَالَ : وَعَنِ الْقَصَصِ ، فَإِنَّهُمْ أَرَادُونِي عَلَى الْقَصَصِ ، فَقَالَ : مَا شِئْتَ ، كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَمْنَعَهُ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَنْتَهِيَ إِلَى قَوْلِكَ ، قَالَ : أَخْشَى عَلَيْكَ أَنْ تَقُصَّ فَتَرْتَفِعَ عَلَيْهِمْ فِي نَفْسِكَ ، ثُمَّ تَقُصَّ فَتَرْتَفِعَ ، حَتَّى يُخَيَّلَ إِلَيْكَ أَنَّكَ فَوْقَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الثُّرَيَّا ، فَيَضَعَكَ اللَّهُ تَحْتَ أَقْدَامِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حارث بن معاویہ کندی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں تین سوال پوچھنے کے لئے سواری پر سفر کر کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوا ، جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آنے کی وجہ پوچھی ، میں نے عرض کیا کہ تین باتوں کے متعلق پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہوں ، فرمایا : وہ تین باتیں کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ بعض اوقات میں اور میری بیوی ایک تنگ کمرے میں ہوتے ہیں ، نماز کا وقت آ جاتا ہے ، اگر ہم دونوں وہاں نماز پڑھتے ہوں تو وہ میرے بالکل ساتھ ہوتی ہے اور اگر وہ میرے پیچھے کھڑی ہوتی ہے تو کمرے سے باہر چلی جاتی ہے اب کیا کیا جائے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنے اور اپنی بیوی کے درمیان ایک کپڑا لٹکا لیا کرو ، پھر اگر تم چاہو تو وہ تمہارے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتی ہے ۔ پھر میں نے عصر کے بعد دو نفل پڑھنے کے حوالے سے پوچھا: تو فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ، پھر میں نے ان سے وعظ گوئی کے حوالے سے پوچھا کہ لوگ مجھ سے وعظ کہنے کا مطالبہ کرتے ہیں ؟ فرمایا کہ آپ کی مرضی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جواب سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ براہ راست منع کرنے کو اچھا نہیں سمجھ رہے ، میں نے عرض کیا کہ میں آپ کی بات کو حرفِ آخر سمجھوں گا ، فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر تم نے قصہ گوئی یا وعظ شروع کر دیا تو تم اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں اونچا سمجھنے لگو گے ، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم وعظ کہتے وقت اپنے آپ کو ثریا پر پہنچا ہوا سمجھنے لگو گے ، جس کے نتیجے میں قیامت کے دن اللہ تمہیں اسی قدر ان کے قدموں کے نیچے ڈال دے گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 111
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " ، قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ، وَلَا تَكَلَّمْتُ بِهَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس کی ممانعت کا حکم سنا ہے ، میں نے اس طرح کی کوئی قسم نہیں اٹھائی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی بات برسبیل تذکرہ یا کسی سے نقل کر کے کہی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 112
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ: 6647، م: 1646
حدیث نمبر: 113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْخُذْ مِنَ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ صَدَقَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے اور غلام پر زکوٰۃ وصول نہیں فرمائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 113
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر ابن عبدالله ضعيف، وراشد بن سعد لم يدرك عمر وحذيفة
حدیث نمبر: 114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَامِي فِيكُمْ ، فَقَالَ : " اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بَحْبَحَةَ الْجَنَّةِ ، فَلْيَلْزَمْ الْجَمَاعَةَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، لَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا ، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران سفر ”جابیہ“ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے جیسے میں کھڑا ہوا ہوں اور فرمایا کہ میں تمہیں اپنے صحابہ کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتا ہوں ، یہی حکم ان کے بعد والوں اور ان کے بعد والوں کا بھی ہے ، اس کے بعد جھوٹ اتنا عام ہو جائے گا کہ گواہی کی درخواست سے قبل ہی آدمی گواہی دینے کے لئے تیار ہو جائے گا ، سو تم میں سے جو شخص جنت کا ٹھکانہ چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ ”جماعت“ کو لازم پکڑے ، کیونکہ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور دو سے دور ہوتا ہے ، یاد رکھو ! تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے کیونکہ ان دو کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس شخص کو اپنی نیکی سے خوشی اور برائی سے غم ہو ، وہ مومن ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 114
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 115
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَا : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَدْيِ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھنا چاہتا ہے ، اسے چاہیے کہ عمرو بن اسود کی سیرت کو دیکھ لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 115
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه، حكيم بن عمير و ضمرة لم يدركا عمر، وأبو بكر - وهو ابن عبدالله بن مريم- ضعيف
حدیث نمبر: 116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : لَا وَأَبِي ، فَقَالَ رَجُلٌ : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " ، فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے ، ایک آدمی نے قسم کھاتے ہوئے کہا: «لَاوَأَبِي» تو دوسرے آدمی نے اس سے کہا: کہ اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں مت کھایا کرو ، میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 116
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب، خ: 6647، م: 1646
حدیث نمبر: 117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، وَأَبُو الْيَمَانِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ ، قَالَ عُمَرُ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى " ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ ، قَالَ أَبُو الْيَمَانِ : لَأَقْتُلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا . قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرما گئے اور ان کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو گئے اور اہل عرب میں سے جو کافر ہو سکتے تھے ، سو ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کر سکتے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ ”لا الہ الا اللہ“ نہ کہہ لیں ، جو شخص ”لا الہ الا اللہ“ کہہ لے ، اس نے جان اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا ، ہاں ! اگر اسلام کا کوئی حق ہو تو الگ بات ہے اور اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے ضرور قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں ، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے ، بخدا ! اگر انہوں نے ایک بکری کا بچہ ”جو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے “ بھی روکا تو میں ان سے قتال کروں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا ، اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں شرح صدر کی دولت عطاء فرما دی ہے اور میں سمجھ گیا کہ ان کی رائے ہی برحق ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 117
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، خ: 1399، م: 20
حدیث نمبر: 118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ”فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 118
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضيعف لانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يدرك عبدالله بن عمرو بن العاص
حدیث نمبر: 119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَبَإٍ عُتْبَةَ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَامِرٍ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُغِيثٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَاحِبَ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ سواری کی اگلی سیٹ پر بیٹھنے کا حقدار سواری کا مالک ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 119
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن لشواهده ، عتبة بن تميم وألوليد بن عامر روي عنهما غير واحد، وذكرهما ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ حُمْزةَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ ، قَالَ : سَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الشَّامِ بَعْدَ مَسِيرِهِ الْأَوَّلِ كَانَ إِلَيْهَا ، حَتَّى إِذَا شَارَفَهَا ، بَلَغَهُ وَمَنْ مَعَهُ أَنَّ الطَّاعُونَ فَاشٍ فِيهَا ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : ارْجِعْ وَلَا تَقَحَّمْ عَلَيْهِ ، فَلَوْ نَزَلْتَهَا وَهُوَ بِهَا لَمْ نَرَ لَكَ الشُّخُوصَ عَنْهَا ، فَانْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَعَرَّسَ مِنْ لَيْلَتِهِ تِلْكَ ، وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْهُ ، فَلَمَّا انْبَعَثَ ، انْبَعَثْتُ مَعَهُ فِي أَثَرِهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : رَدُّونِي عَنِ الشَّامِ بَعْدَ أَنْ شَارَفْتُ عَلَيْهِ ، لِأَنَّ الطَّاعُونَ فِيهِ ، أَلَا وَمَا مُنْصَرَفِي عَنْهُ بمُؤَخِّرٌ فِي أَجَلِي ، وَمَا كَانَ قُدُومِيهِ بمُعَجِّلِي عَنْ أَجَلِي ، أَلَا وَلَوْ قَدْ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَفَرَغْتُ مِنْ حَاجَاتٍ لَا بُدّ لِي مِنْهَا فيها ، لَقَدْ سِرْتُ حَتَّى أَدْخُلَ الشَّامَ ، ثُمَّ أَنْزِلَ حِمْصَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ عَلَيْهِمْ ، مَبْعَثُهُمْ فِيمَا بَيْنَ الزَّيْتُونِ ، وَحَائِطِهَا فِي الْبَرْثِ الْأَحْمَرِ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حمرہ بن عبد کلال کہتے ہیں کہ پہلے سفر شام کے بعد ایک مرتبہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف روانہ ہوئے ، جب اس کے قریب پہنچے تو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو یہ خبر ملی کی شام میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی ہے ، ساتھیوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہیں سے واپس لوٹ چلیے ، آگے مت بڑھیے ، اگر آپ وہاں چلے گئے اور واقعی یہ وباء وہاں پھیلی ہوئی ہو تو ہمیں آپ کو وہاں سے منتقل کرنے کی کوئی صورت پیش نہیں آئے گی ۔ چنانچہ مشورہ کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ واپس آ گئے ، اس رات جب آپ نے آخری پہر میں پڑاؤ ڈالا تو میں آپ کے سب سے زیادہ قریب تھا ، جب وہ اٹھے تو میں بھی ان کے پیچھے پیچھے اٹھ گیا ، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں شام کے قریب پہنچ گیا تھا لیکن یہ لوگ مجھے وہاں سے اس بناء پر واپس لے آئے کہ وہاں طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہے ، حالانکہ وہاں سے واپس آ جانے کی بناء پر میری موت کے وقت میں تو تاخیر ہو نہیں سکتی اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ میری موت کا پیغام جلد آ جائے ، اس لئے اب میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ پہنچ کر ان تمام ضروری کاموں سے فارغ ہو گیا جن میں میری موجودگی ضروری ہے تو میں شام کی طرف دوبارہ ضرور روانہ ہوں گا اور شہر ”حمص“ میں پڑاؤ کروں گا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے ستر ہزار ایسے بندوں کو اٹھائے گا جن کا نہ حساب ہو گا اور نہ ہی عذاب اور ان کے اٹھائے جانے کی جگہ زیتون کے درخت اور سرخ و نرم زمین میں اس کے باغ کے درمیان ہو گی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 120
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن عبد الله وحمرة بن عبد كلال
حدیث نمبر: 121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عَمِّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : " مَنْ قَامَ إِذَا اسْتَقَلَّتْ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ ، فَكَانَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي أَنْ أَسْمَعَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَكَانَ تُجَاهِي جَالِسًا : أَتَعْجَبُ مِنْ هَذَا ؟ فَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْجَبَ مِنْ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ ، فَقُلْتُ : وَمَا ذَاكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ؟ فَقَالَ عُمَرُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ رَفَعَ نَظَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کے ساتھ حدیث بیان کرنے کے لئے بیٹھے اور فرمایا : ”جو شخص استقلال شمس کے وقت کھڑا ہو کر خوب اچھی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھ لے ، اس کے سارے گناہ اس طرح معاف کر دئیے جائیں گے گویا کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو“ ، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ ارشاد سننے کی توفیق عطا فرمائی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس مجلس میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ، وہ فرمانے لگے کہ کیا آپ کو اس پر تعجب ہو رہا ہے ؟ آپ کے آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی زیادہ عجیب بات فرمائی تھی ، میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر فداء ہوں ، وہ کیا بات تھی ؟ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا تھا : ”جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے ، پھر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے اور یہ کہے «اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله» اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 121
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره إلا الشطر الأول، وقوله : (ثم رفع نظره إلى السماء) ضعيف ليس له شاهد، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن عم أبى عقيل
…