مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آسمانوں اور زمین اور دوسری مخلوق کے پیدا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q7452
وَهُوَ فِعْلُ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَأَمْرُهُ ، فَالرَّبُّ بِصِفَاتِهِ وَفِعْلِهِ وَأَمْرِهِ وَكَلَامِهِ وَهُوَ الْخَالِقُ الْمُكَوِّنُ غَيْرُ مَخْلُوقٍ ، وَمَا كَانَ بِفِعْلِهِ وَأَمْرِهِ وَتَخْلِيقِهِ وَتَكْوِينِهِ فَهُوَ مَفْعُولٌ مَخْلُوقٌ مُكَوَّنٌ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور یہ پیدا کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کا ایک فعل اور اس کا امر ہے ۔ پس اللہ رب العزت اپنی صفات ، اپنے فعل اور اپنے امر سمیت خالق ہے ، وہی بنانے والا ہے اور غیر مخلوق ہے اور جو چیز بھی اس کے فعل ، اس کے امر ، اس کی تخلیق اور اس کی تکوین سے بنی ہیں وہ سب مخلوق اور مکون ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التوحيد / حدیث: Q7452
حدیث نمبر: 7452
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةً ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا لِأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ، ثُمَّ رَقَدَ ، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَرَأَ : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 ، ثُمَّ قَامَ ، فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ ، ثُمَّ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ الصُّبْحَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہوں نے کہا مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے خبر دی ، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ایک رات میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گزاری اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس تھے ۔ میرا مقصد رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھنا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر تو اپنی اہلیہ کے ساتھ بات چیت کی پھر سو گئے ۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ یا بعض حصہ باقی رہ گیا تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھ کر یہ آیت پڑھی «إن في خلق السموات والأرض‏» ” بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں “ پھر اٹھ کر آپ نے وضو کیا اور مسواک کی ، پھر گیارہ رکعتیں پڑھیں ، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دی اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر باہر آ گئے اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التوحيد / حدیث: 7452
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔