کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ طہٰ میں) موسیٰ علیہ السلام سے فرمانا کہ ”میری آنکھوں کے سامنے تو پرورش پائے“۔
حدیث نمبر: Q7407
وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا}.
مولانا داود راز
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ( سورۃ القمر میں ) «تجري بأعيننا» ” نوح کی کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی ۔ “
حدیث نمبر: 7407
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنِهِ ، وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کانا نہیں ہے اور آپ نے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور دجال مسیح کی دائیں آنکھ کانی ہو گی ، جیسے اس کی آنکھ پر انگور کا ایک اٹھا ہوا دانہ ہو ۔
حدیث نمبر: 7408
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَ قَوْمَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو قتادہ نے خبر دی ، کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جتنے نبی بھیجے ان سب نے جھوٹے کانے دجال سے اپنی قوم کو ڈرایا ، وہ دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب ( آنکھوں والا ہے ) کانا نہیں ہے ، اس دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہو گا ( لفظ ) کافر ۔ “