کتب حدیث ›
مشكوة المصابيح › ابواب
› باب: خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کی کرامت
حدیث نمبر: 5949
وَعَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطَأَ الْجَيْشَ بِأَرْضِ الرُّومِ أَوْ أُسِرَ فَانْطَلَقَ هَارِبًا يَلْتَمِسُ الْجَيْشَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَسَدِ. فَقَالَ: يَا أَبَا الْحَارِثِ أَنَا مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَيْتَ وَكَيْتَ فَأَقْبَلَ الْأَسَدُ لَهُ بَصْبَصَةٌ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِهِ كُلَّمَا سَمِعَ صَوْتًا أَهْوَى إِلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى بَلَغَ الْجَيْشَ ثُمَّ رَجَعَ الْأَسَدُ. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سفینہ رضی اللہ عنہ سرزمین روم میں لشکر سے بچھڑ گئے، یا انہیں قید کر لیا گیا، وہ لشکر کی تلاش میں دوڑنے لگے تو اچانک شیر سے سامنا ہو گیا، انہوں نے فرمایا: ابو الحارث (شیر کی کنیت)! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آزاد کردہ غلام ہوں، میرے ساتھ یہ یہ مسئلہ بنا ہے، شیر دم ہلاتا ہوا آپ کے سامنے آیا، حتیٰ کہ وہ آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، جب وہ کہیں سے (خوفناک) آواز سنتا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا، پھر وہ ان کی طرف آ جاتا حتیٰ کہ وہ لشکر کے ساتھ جا ملے پھر شیر واپس چلا گیا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ۔