کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: نابینا ہونے پر صبر کرنا
حدیث نمبر: 5939
وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِيهَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى زَيْدٍ يَعُودُهُ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهِ قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ بَأْسٌ وَلَكِنْ كَيْفَ لَكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ؟» قَالَ: أَحْتَسِبُ وَأَصْبِرُ. قَالَ: «إِذًا تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَاب» . قَالَ: فَعَمِيَ بَعْدَ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ثمَّ ردَّ اللَّهُ بَصَره ثمَّ مَاتَ
الشیخ عبدالستار الحماد
اُنیسہ بنت زید بن ارقم اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زید کی بیماری میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تمہاری بیماری خطرناک نہیں، لیکن تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب میرے بعد تمہاری عمر دراز ہو گی اور تم اندھے ہو جاؤ گے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کروں گا۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تب تم بغیر حساب جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ ‘‘ راویہ بیان کرتی ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد وہ نابینا ہو گئے پھر اللہ نے انہیں بصارت عطا فرمائی اور پھر انہوں نے وفات پائی۔ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الفضائل والشمائل / حدیث: 5939
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في دلائل النبوة (6/ 479) ¤٭ فيه ’’نباتة عن حمادة عن أنيسة بنت زيد بن أرقم‘‘ وھن مجھولات و من دونھن ينظر فيه .»