حدیث نمبر: 5928
وَعَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَدَاوَلُ مِنْ قَصْعَةٍ مِنْ غُدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ قُلْنَا: فَمِمَّا كَانَتْ تُمَدُّ؟ قَالَ: مِنْ أَيْ شَيْءٍ تَعْجَبُ؟ مَا كَانَت تمَدّ إِلا من هَهنا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوالعلاء، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک برتن سے دن بھر باری باری تناول کرتے رہے، وہ اس طرح کہ دس کھا جاتے اور دس آ جاتے۔ ہم نے کہا: کہاں سے بڑھایا جا رہا تھا؟ انہوں (سمرہ رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا: تم کس چیز سے تعجب کرتے ہو؟ اس میں اضافہ تو اس طرف سے ہو رہا تھا، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و الدارمی۔