کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین دعاؤں میں سے دو قبول اور ایک نہ قبول
حدیث نمبر: 5751
وَعَنْ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: «سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بأسهم بَينهم فَمَنَعَنِيهَا» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرے تو آپ اس میں تشریف لے گئے، آپ نے وہاں دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (دو رکعتیں) پڑھیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب سے طویل دعا کی، اور جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگی تھیں، اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے مجھے روک دیا، میں نے اپنے رب سے سوال کیا تھا کہ وہ میری امت کو قحط کے ساتھ ہلاک نہ کرے، اس نے یہ چیز مجھے عطا فرما دی، میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے، تو اس نے یہ بھی مجھے عطا کر دی، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان میں باہم لڑائی پیدا نہ کرے تو اس سے مجھے روک دیا گیا۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الفضائل والشمائل / حدیث: 5751
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (20/ 2890)»