کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ چیزیں عطا کی گئیں
حدیث نمبر: 5747
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتي أدركتْه الصَّلاةُ فليُصلِّ وأُحلَّتْ لي المغانمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأَعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عامَّةً . مُتَّفق عَلَيْهِ
الشیخ عبدالستار الحماد
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں: ایک مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، تمام زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک بنا دی گئی ہے، میرے امتی کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے تو وہ وہیں نماز پڑھ لے، میرے لیے مال غنیمت حلال کر دیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا، مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث کیا جاتا تھا جبکہ مجھے عمومی طور پر تمام انسانوں کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الفضائل والشمائل / حدیث: 5747
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (335) ومسلم (3/ 521)»