کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے
حدیث نمبر: 5019
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَقَالَ النَّوَوِيُّ: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ ‘‘ احمد، ترمذی، ابوداؤد، بیہقی فی شعب الایمان۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور امام نووی ؒ نے فرمایا: اس کی اسناد صحیح ہیں۔ حسن، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الآداب / حدیث: 5019
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حَسَنٌ غَرِيبٌ , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (303/2 ح 8015) و الترمذي (2378) و أبو داود (4833) و البيھقي في شعب الإيمان (9436)»