حدیث نمبر: 4992
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانَةً تُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا وَصِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا. قَالَ: «هِيَ فِي النَّارِ» . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ فُلَانَةً تُذْكَرُ قِلَّةَ صِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا وَصَلَاتِهَا وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ وَلَا تؤذي جِيرَانَهَا. قَالَ: «هِيَ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں عورت اپنی نمازوں، روزوں اور صدقات کی کثرت کے حوالے سے مشہور ہے لیکن وہ اپنی زبان درازی سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ جہنمی ہے۔ ‘‘ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں عورت اپنی نمازوں، روزوں اور صدقات کی قلت کے حوالے سے مشہور ہے، اور وہ پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور وہ اپنی زبان درازی کے ذریعے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ جنتی ہے۔ ‘‘ اسنادہ صحیح، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان۔