کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: خالہ سے احسان کرنے پر بڑا گناہ معاف
حدیث نمبر: 4935
وَعَن ابْن عمر أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِيمًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَهَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟» . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فبرها» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو کیا میرے لیے توبہ (کی گنجائش) ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کیا تمہاری والدہ ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا، نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کیا تمہاری خالہ ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ‘‘ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الآداب / حدیث: 4935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (1904 وقال: صحيح) ¤٭ و صححه ابن حبان (الموارد: 2022) و الحاکم علي شرط الشيخين (155/4) ووافقه الذهبي .»