کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: تکبر آمیز فخر کی ممانعت
حدیث نمبر: 4899
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ جَهَنَّمَ أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ أَوْ فَاجِرٌ شَقِيٌّ النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’لوگ اپنے فوت شدہ آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے باز آ جائیں، وہ تو دوزخ کے کوئلے ہیں، یا وہ اللہ کے ہاں کرم نجاست سے بھی زیادہ حقیر ہیں جو کہ اپنی ناک سے غلاظت دھکیلتا ہے، بے شک اللہ نے آباؤ اجداد پر تمہارے جاہلی فخر و غرور کو ختم کر دیا ہے، بس وہ (فخر کرنے والا) مؤمن متقی ہے یا فاجر بدبخت، تمام لوگ آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدم ؑ مٹی سے (پیدا ہوئے) ہیں۔ ‘‘ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الآداب / حدیث: 4899
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3955. 3956 وقال: حسن) و أبو داود (5116)»