کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ابو الحکم کنیت پر ناپسندیدگی
حدیث نمبر: 4766
عَن شُرَيْح بن هَانِئ عَن أبيهِ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ سَمِعَهُمْ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ؟» قَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ بِحُكْمِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَحْسَنَ هَذَا فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟» قَالَ: لِي شُرَيْحٌ وَمُسْلِمٌ وَعَبْدُ اللَّهِ قَالَ: «فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟» قَالَ قُلْتُ: شُرَيْحٌ. قَالَ فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
شریح بن ہانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو آپ نے انہیں سنا کہ وہ میرے والد کو ابوالحکم کی کنیت سے پکارتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا: ’’بے شک اللہ ہی حکم ہے اور حکم کا اختیار اسے ہی حاصل ہے، تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں رکھی گئی؟‘‘ اس نے کہا: جب میری قوم میں کسی چیز میں اختلاف ہو جاتا تو وہ میرے پاس آتے اور میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہوں تو وہ دونوں فریق میرے فیصلے پر راضی ہو جاتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’یہ کتنا اچھا ہے، تیرے کتنے بچے ہیں؟‘‘ اس نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ان میں سے بڑا کون ہے؟‘‘ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے کہا: شریح، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تم ابو شریح ہو۔ ‘‘ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و النسائی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الآداب / حدیث: 4766
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: إِسْنَاده جيد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4955) و النسائي (226/8. 227 ح 5389)»