کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا اکرام
حدیث نمبر: 4695
عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ: «قُومُوا إِلَى سيِّدكم» . مُتَّفق عَلَيْهِ. وَمَضَى الْحَدِيثُ بِطُولِهِ فِي «بَابِ حِكَمِ الْإِسْرَاءِ»
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب بنو قریظہ، سعد رضی اللہ عنہ کا فیصلہ قبول کرنے پر راضی ہوئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کو ان کی طرف بھیجا، اور وہ آپ کے قریب ہی تھے، چنانچہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار سے فرمایا: ’’اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جاؤ۔ ‘‘ متفق علیہ۔ اور یہ حدیث مکمل طور پر باب حکم الاسراء میں گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الآداب / حدیث: 4695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4121) و مسلم (1768/64)»