کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: مصافحہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ
حدیث نمبر: 4679
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَاهُ غفر لَهما»
الشیخ عبدالستار الحماد
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے ہیں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے۔ ‘‘ احمد، ترمذی، ابن ماجہ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے، فرمایا: ’’جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے ہیں، اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں، اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں، تو انہیں بخش دیا جاتا ہے۔ ‘‘ سندہ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و ابودداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الآداب / حدیث: 4679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (289/4 ح 18746) و الترمذي (2727 وقال: حسن غريب) و ابن ماجه (3703) و أبو داود (5212) ¤٭ أبو إسحاق مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة .¤٭ و رواية: ’’وحمدا الله و استغفراه غفرلھما‘‘ رواها أبو داود (5211) و سنده ضعيف، فيه أبو الحکم زيد بن أبي الشعثاء العنزي، و ثقه ابن حبان وحده .»