حدیث نمبر: 4665
وَعَن جَابر قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقٌ وَأَنَّهُ آذَانِي مَكَانُ عَذْقِهِ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ بِعْنِي عَذْقَكَ» قَالَ: لَا. قَالَ: «فَهَبْ لِي» . قَالَ: لَا. قَالَ: «فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ»؟ فَقَالَ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
الشیخ عبدالستار الحماد
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا، فلاں شخص کا میرے باغ میں کھجور کا ایک درخت ہے، وہ اس کھجور کے درخت کی وجہ سے مجھے ایذا پہنچاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغام بھیجا کہ اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دو، اس نے کہا: نہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’چلو مجھے ہبہ کر دو۔ ‘‘ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جنت میں کھجور کے درخت کے بدلے میں مجھے فروخت کر دو۔ ‘‘ اس نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے سلام کہنے میں بخل کرنے والے کے علاوہ تجھ سے زیادہ بخیل کوئی اور نہیں دیکھا۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان۔