کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: اچھا نام سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسرت
حدیث نمبر: 4588
وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ فَإِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمه فَرح بِهِ ورئي بشر ذَلِك على وَجْهِهِ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ على وَجْهِهِ وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَة ذَلِك فِي وَجهه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی چیز سے بدشگونی نہیں لیا کرتے تھے، جب آپ کسی عامل (گورنر و حکمران) کو بھیجتے تو اس کا نام دریافت فرماتے، اگر آپ کو اس کا نام پسند آتا تو آپ اس سے خوش ہوتے اور اس خوشی کے آثار آپ کے چہرے پر نظر آتے، اور اگر آپ اس کا نام ناپسند کرتے تو اس کی ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر نظر آتی۔ اور جب آپ کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام دریافت فرماتے، اگر آپ کو اس کا نام اچھا لگتا تو آپ خوش ہوتے اور خوشی کے آثار آپ کے چہرے پر دکھائی دیتے۔ اور اگر اس کے نام کو ناپسند فرماتے تو ناگواری کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں ہوتے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الطب والرقى / حدیث: 4588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3920) ¤٭ قتادة مدلس و عنعن .»