کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: بدشگونی لینا شرک ہے
حدیث نمبر: 4584
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ» قَالَهُ ثَلَاثًا وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: «وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ» . هَذَا عِنْدِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ
الشیخ عبدالستار الحماد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’بدشگونی لینا شرک ہے، آپ نے یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا: ’’اور ہم میں سے اگر کسی کے دل میں یہ خیال آتا ہے تو اللہ توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔ ‘‘ ابوداؤد، ترمذی۔ امام ترمذی نے فرمایا: میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری ؒ) کو بیان کرتے ہوئے سنا: سلیمان بن حرب اس حدیث کے متعلق کہا کرتے تھے: ’’اور ہم میں سے کسی کے دل میں اس کے متعلق خیال آتا ہے تو اللہ توکل کے باعث اسے ختم کر دیتا ہے۔ ‘‘ اور میرا خیال ہے کہ یہ جملہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ صحیح، رواہ ابوداؤد و الترمذی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الطب والرقى / حدیث: 4584
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (3910) و الترمذي (1614)»