کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: پہلے اونٹ کو خارش کیسے ہوئی ؟
حدیث نمبر: 4578
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صفر» . فَقَالَ أَعْرَابِي: يَا رَسُول فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ لَكَأَنَّهَا الظباء فيخالها الْبَعِير الأجرب فيجر بِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمن أعدى الأول» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ الّو منحوس ہے اور نہ ہی ماہ صفر۔ ‘‘ (یہ سن کر) ایک دیہاتی نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ان اونٹوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ریگستان میں رہتے ہیں اور وہ ہرن معلوم ہوتے ہیں، اس میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو جاتا ہے تو وہ انہیں بھی خارش لگا دیتا ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر پہلے (اونٹ) کو کس نے خارش زدہ کیا؟‘‘ رواہ البخاری۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الطب والرقى / حدیث: 4578
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيحٌ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5770)»