حدیث نمبر: 4552
وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَأَى فِي عُنُقِي خَيْطًا فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: خَيْطٌ رُقِيَ لِي فِيهِ قَالَتْ: فَأَخَذَهُ فَقَطَعَهُ ثُمَّ قَالَ: أَنْتُمْ آلَ عَبْدَ اللَّهِ لَأَغْنِيَاءٌ عَنِ الشِّرْكِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ» فَقُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَكَذَا؟ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تُقْذَفُ وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَإِذَا رَقَاهَا سَكَنَتْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَلِكِ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخَسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رُقِيَ كُفَّ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سقما» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ نے میری گردن میں ایک دھاگہ دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میرے لیے دم کیا ہوا دھاگہ ہے، انہوں نے اسے پکڑ کر کاٹ دیا، پھر فرمایا: تم آل عبداللہ شرک سے بے نیاز ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بے شک دم، تعویذ اور جادو شرک ہے۔ ‘‘ میں نے کہا: آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں؟ میری آنکھ میں شدید درد تھا میں فلاں یہودی کے پاس جاتی تھی، جب وہ دم کرتا تو درد رک جاتا تھا، (یہ سن کر) عبداللہ نے فرمایا: یہ محض شیطان کا عمل ہے، وہ اپنا ہاتھ آنکھ پر مارتا ہے۔ جب دم کیا جاتا ہے تو وہ ہاتھ مارنا چھوڑ دیتا ہے، تمہارے لیے اتنا کہنا ہی کافی تھا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ’’لوگوں کے رب! بیماری لے جا، اور شفا عطا فرما، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، شفا صرف تیری ہی ہے، ایسی شفا عطا کر کہ وہ کوئی بیماری نہ چھوڑے۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔