کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: وہ دم جس میں شرک نہ ہو جائز ہے
حدیث نمبر: 4530
وَعَن عوفِ بن مَالك الْأَشْجَعِيّ قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لم يكن فِيهِ شرك» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم دورِ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے، ہم نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اپنے دم مجھے سناؤ، ایسا دم جس میں شرک نہ ہو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الطب والرقى / حدیث: 4530
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (64/ 2200)»