کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: بنو نضیر والا مال صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص
حدیث نمبر: 4056
وَعَن عمر قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَة يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيل الله
الشیخ عبدالستار الحماد
عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، بنو نضیر کا مال اس مد میں تھا جو اللہ نے اپنے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خاص طور پر عطا فرمایا کیونکہ اس کے حصول کے لیے مسلمانوں نے کوئی لشکر کشی نہیں کی، چنانچہ یہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے خاص تھا، آپ اسے اپنے اہل پر سال بھر خرچ کرتے رہے اور جو بچ جاتا اسے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کی راہ میں جہاد کی تیاری کے لیے اسلحہ اور گھوڑوں پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجهاد / حدیث: 4056
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2904) و مسلم (1757/48)»