حدیث نمبر: 3898
وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٌ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ» قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لأحدٍ منا فِي فضل. رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اس دوران اچانک ایک آدمی سواری پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ دائیں بائیں دیکھنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کے پاس زائد سواری ہو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس کوئی سواری نہیں، جس شخص کے پاس زاد سفر زیادہ ہو تو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس زاد راہ نہیں۔ ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال کی بہت اصناف کا ذکر فرمایا، حتی کہ ہم نے سمجھا کہ ہم میں سے کسی شخص کو زائد چیز پر کوئی حق نہیں۔ رواہ مسلم۔