کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایرانی کمان ناپسند کرنا
حدیث نمبر: 3891
وَعَن عَليّ قَالَ: كَانَتْ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ عَرَبِيَّةٌ فَرَأَى رَجُلًا بِيَدِهِ قَوْسٌ فَارِسِيَّةٌ قَالَ: «مَا هَذِهِ؟ أَلْقِهَا وَعَلَيْكُمْ بِهَذِهِ وَأَشْبَاهِهَا وَرِمَاحِ الْقَنَا فَإِنَّهَا يُؤَيِّدُ اللَّهُ لَكُمْ بِهَا فِي الدِّينِ وَيُمَكِّنُ لَكُمْ فِي البلادِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
الشیخ عبدالستار الحماد
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں عربی کمان تھی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی دیکھا اس کے ہاتھ میں فارسی کمان تھی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟ اسے پھینک دو، اور تم پر یہ اور اس کی مثل لازم ہیں، اور کامل نیزے تم پر لازم ہیں، کیونکہ اللہ ان کے ذریعے تمہیں دین میں مدد عطا فرمائے گا اور تمہیں شہروں میں اقتدار عطا کرے گا۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف جذا، رواہ ابن ماجہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجهاد / حدیث: 3891
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه ابن ماجه (2810) ¤٭ فيه أشعث بن سعيد السمان: متروک و عبد الله بن بسر الحبراني: ضعيف .»