کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: تیراندازی اسمٰعیل علیہ السلام کی سنت ہے
حدیث نمبر: 3864
وَعَن سلَمةَ بنِ الأكوَعِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُونَ بِالسُّوقِ فَقَالَ: «ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ» لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا بِأَيْدِيهِمْ فَقَالَ: «مَا لَكُمْ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ؟ قَالَ: «ارْمُوا وَأَنا مَعكُمْ كلكُمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسلم قبیلہ کے لوگوں کے پاس تشریف لائے، وہ بازار میں تیر اندازی کر رہے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ تیر انداز تھے، اور میں فلاں قبیلے کے ساتھ ہوں۔ ‘‘ انہوں نے اپنے ہاتھ روک لیے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا، ہم کیسے تیر اندازی کریں جبکہ آپ فلاں قبیلے کے ساتھ ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تیر اندازی کرو، اور میں آپ سب کے ساتھ ہوں۔ ‘‘ رواہ البخاری۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجهاد / حدیث: 3864
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3507)»