کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: شہید کے فضائل
حدیث نمبر: 3834
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أوَّلِ دفعةٍ وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ويزوَّجُ ثنتينِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقْرِبَائِهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
الشیخ عبدالستار الحماد
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’شہید کے لیے اللہ کے ہاں چھ انعامات ہیں: اسے پہلے قطرہ خون گرنے پر بخش دیا جاتا ہے، اس کا جنت میں ٹھکانا اسے دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذاب قبر سے بچا لیا جاتا ہے، وہ (قیامت کی) بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھ دیا جائے گا اس کا ایک یاقوت دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، بہتر (۷۲) حوروں سے اس کی شادی کرائی جائے گی اور اس کے ستر رشتہ داروں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔ ‘‘ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجهاد / حدیث: 3834
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (1663 وقال: صحيح غريب) و ابن ماجه (2799)»