کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جہاد کے لیے والدین کی اجازت
حدیث نمبر: 3817
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: «أَحَي والدك؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا»
الشیخ عبدالستار الحماد
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟‘‘ اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ان دونوں (کی خدمت) میں مجاہدہ (انتہائی کوشش) کر۔ ‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اپنے والدین کے پاس چلا جا اور ان سے اچھی طرح سلوک کر۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجهاد / حدیث: 3817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3004) و مسلم (2549/5)»