کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 3815
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: «وهُم بالمدينةِ حَبسهم الْعذر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے، جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: ’’مدینہ میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، کہ تم جہاں بھی گئے اور جس وادی سے گزرے تو وہ تمہارے ساتھ ہی تھے۔ ‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے: ’’وہ اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔ ‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو مدینہ ہی میں تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’(ہاں) وہ مدینہ ہی میں تھے، کیونکہ عذر نے انہیں روک رکھا تھا۔ ‘‘ رواہ البخاری۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجهاد / حدیث: 3815
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4423)»