کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: شہید کون ہے ؟
حدیث نمبر: 3811
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ: إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لِقَلِيلٌ: مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فهوَ شهيدٌ . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنے میں کسے شہید شمار کرتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے وہ شہید ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تب تو میری امت کے شہید قلیل ہوئے، جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے تو وہ شہید ہے، جو شخص اللہ کی راہ میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے، جو شخص طاعون کے مرض میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے اور جو شخص پیٹ کے مرض میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجهاد / حدیث: 3811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيحٌ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1915/165)»